30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ تہجدکی نماز میں آپ کے ساتھ تہجداداکرنے کےلیے،چونکہ آپ اکیلےمقتدی تھے اس لیےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے اگر چند ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتٍے۔خیال رہے کہ تہجد جماعت سے جائزہے بشرطیکہ اس جماعت کے لیے اہتمام نہ کیاجائے اتفاقًا دوچارنمازی جمع ہوجائیں اور جماعت کرلیں یہاں ایسا ہی تھا۔
۳؎ یعنی اتنا دراز رکوع کیا کہ تلاوت کرنے والا سورۂ بقر پڑھ لے۔معلوم ہوا کہ نمازتہجد و کسوف وغیرہ میں رکوع قیام کےبرابرہونابہترہے،فرائض میں رکوع قیام سےکم چاہیے،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۴؎ جبروت ملکوت مبالغے کے صیغےہیں۔جبروت جبر،بمعنی غلبے سے بنا یعنی ہرغالب پرغالب،ملکوت ملك،بمعنی قبضہ سےبنا،ظاہری قبضہ کو ملک اورباطنی قبضہ کو ملکوت کہاجاتاہے۔رب تعالٰی ہمارےجسم کابھی مالک ہے اورنفس و روح کابھی اسی لیے مخلوق کے لیے عطاءً ملک ثابت ہے ملکوت نہیں۔
|
883 -[16] وَعَنِ ابْنً جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ: فَحَزَرْنَا رُكُوعَهُ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ وَسُجُودَهُ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہےحضرت ابن جبیرسے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت انس ابن مالک کو فرماتے سنا۲؎ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکسی کے پیچھے نماز نہ پڑھی۳؎ جس کی نماز اس جوان یعنی عمر ابن عبدالعزیز کےمقابل حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہ ہو فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۴؎ کہ ہم نے ان کا رکوع دس تسبیح اورسجدہ دس تسبیح کا اندازہ کیا۵؎(ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ آپ کا نام سعید ابن جبیرہے،اسدی ہیں،کوفی ہیں،عظیم الشان تابعی عبداﷲ ابن عباس وابن عمر وابن زبیروغیرہم صحابہ سے ملاقات ہے۔رضی اللہ عنہم، ۹۵ھ میں حجاج ابن یوسف ظالم کے ہاتھوں شہید ہوئے،۴۹ سال عمر ہوئی،واسط علاقۂ عراق میں دفن ہوئے،آپ کی قبر زیارت گاہ مسلمین ہے،آپ کی شہادت کاعجیب وغریب واقعہ ہے،شعبان میں حجاج نے آپ کو شہید کیا اور پندرہ بیس روز بعد رمضان میں خودفوت ہوگیا،اس دوران کبھی رات کو سو نہ سکا،کہتاتھا کیاکروں آنکھ لگتے ہی سعید میرے پاؤں پکڑکر گھسیٹتے ہیں،آپ نے بوقت شہادت کہا تھا کہ تومیرے بعدکسی کو شہید نہ کرسکے گا ایسا ہی ہوا۔(اکمال)
۲؎ یہی صحیح ہے۔بعض روایات میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے وہ غلط ہے اس لیے کہ عمر ابن عبدالعزیزکی پیدائش حضرت ابوہریرہ کی وفات کے بعد ہے،ہاں حضرت انس نےعمر ابن عبدالعزیز کا زمانہ پایاہے کیونکہ حضرت انس کی وفات ۹۱ھ میں ہے اورعمر ابن عبدالعزیز کی ولادت ۶۱ھ میں ہے۔(ازلمعات ومرقات)
۳؎ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعدکسی تابعی کی نماز،لہذا اس کے یہ معنی نہیں کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز کی نمازصحابہ کرام اور خلفائے راشدین سےبھی بہترتھی،یہ کیسےہوسکتاہے کہ خود حضرت انس کی نمازحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ نہ ہو۔
۴؎ پہلے قَالَ کا فاعل کوئی اور راوی ہے،دوسرے قَالَ کا فاعل حضرت سعیدہیں،یعنی جب حضرت انس نے انکی نماز کی ایسی تعریف کی تو ہم نے ان کے ارکان نماز کا اندازہ لگایا،بعض شارحین نے فرمایا کہ پہلے قَالَ کا فاعل سعید ہیں اور دوسرے کا فاعل حضرت انس لیکن پہلی توجیہ زیادہ قوی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع