30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1770 -[9] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لعن زوارات الْقُبُورِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح وَقَالَ: قَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ هَذَا كَانَ قبل أَن يرخص النَّبِي فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَلَمَّا رَخَّصَ دَخَلَ فِي رُخْصَتِهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا كَرِهَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ لِلنِّسَاءِ لِقِلَّةِ صَبْرِهِنَّ وَكَثْرَةِ جَزَعِهِنَّ. تمّ كَلَامه |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول ا ﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کی زیارت کرنے والیوں پر لعنت کی ۱؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حسن صحیح ہے اور فرمایا کہ بعض اہلِ علم نے سمجھا کہ یہ حکم اس سے پہلے تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زیارت قبور کی اجازت دیں پھر جب اجازت دے ہی دی تو اس اجازت میں مرد عورتیں سب ہی آگئے،بعض نے فرمایا عورتوں کے لیے زیارت قبور ان کے صبر کی کمی اور بے صبری کی زیادتی کی وجہ سے مکروہ ہے ۲؎(ختم شد) |
۱؎ یہ حدیث منسوخ ہے جس کی ناسخ حدیثیں پہلے گزرچکیں اور اگر اس کے معنی یہ ہوں کہ ان عورتوں پر لعنت ہے جو ہمیشہ ہر وقت بے پرواہ و بے حیائی سے قبرستانوں کی زیارتیں کرتی پھریں ان کا یہ مشغلہ ہو تو حدیث محکم ہے جیسا کہ ذَوَّارَاتْ مبالغہ کے صیغہ سے معلوم ہورہا ہے۔
۲؎ غرضکہ عورتوں کی زیارت قبور کے متعلق علماء کے تین قول ہوئے:ایک یہ کہ مطلقًا ممنوع ہے۔دوسرے یہ کہ مطلقًا جائزہے۔تیسرے یہ کہ عام عورتوں کو ممنوع ہے جو صبر نہ کرسکیں،خواص عورتوں کو جائز جو احکام شرعیہ سے واقف اور ان پر عامل ہوں مگر یہ اختلاف حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر کے علاوہ دیگرقبور میں ہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کی حاضری ہر مسلمان مردوعور ت حاجی پر واجب ہے،رب فرماتا ہے:" وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ"الخ۔
|
1771 -[10] وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِيَ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي وَاضِعٌ ثَوْبِي وَأَقُولُ: إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَهُمْ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُهُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاء من عمر.رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں اپنے گھر میں جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہیں یوں ہی چادر اٹکارے چلی جاتی تھی ۱؎ اور کہتی تھی ایک میرے زوج ہیں اور ایک میرے والد پھر جب حضرت عمر دفن ہوگئے تو رب کی قسم حضرت عمر سے شرم کے باعث بغیر کپڑا لپیٹے اس گھر میں نہ گئی ۲؎(احمد) |
۱؎ یعنی جب تک میرے حجرے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت ابوبکرصدیق مدفون رہے تب تک تو میں سر کھولے یا ڈھکے ہر طرح حجرے شریف میں چلی جاتی تھی کیونکہ نہ خاوند سے حجاب ہوتا ہے نہ والد سے۔
۲؎ جب سے حضرت عمر میرے حجرے میں دفن ہوگئے تب سے میں بغیر چادر اوڑھے اور پردہ کا پورا اہتمام کیئے بغیر حجرے شریف میں نہ گئی،حضرت عمر سے شرم و حیا کرتی ہوں۔اس حدیث سے بہت مسائل معلوم ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ میت کا بعد وفات بھی احترام چاہیئے۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ میت کا ایسا ہی احترام کرے جیساکہ اس کی زندگی میں کرتا تھا۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کی قبور کا بھی احترام اور ان سے بھی شرم و حیا چاہیئے۔تیسرے یہ کہ میت قبر کے اندر سے باہر والوں کو دیکھتااور انہیں جانتا پہچانتا ہے،دیکھو حضرت عمر سے عائشہ صدیقہ ان کی وفات کے بعد شرم و حیاء فرمارہی ہیں،اگر آپ باہر کی کوئی چیز نہ دیکھتے تو اس حیاء فرمانے کے کیا معنی۔چوتھے یہ کہ قبر کی مٹی تختے وغیرہ تو میت کی آنکھوں کے لیئے حجاب نہیں بن سکتے مگر زائر کے جسم کا لباس ان کے لیئے آڑ ہے،لہذا میت کو زائر ننگا نہیں دکھائی دیتا ورنہ حضرت عائشہ صدیقہ کا چادر اوڑھ کر وہاں جانے کے کیا معنے تھے،یہ قانون قدرت ہے۔لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب حضرت عمر قبر کے اندر سے زائر کو دیکھ رہے ہیں تو زائر کے کپڑوں کے اندر کا جسم بھی انہیں نظر آرہا ہے۔پانچویں یہ کہ بزرگوں کی قبروں پر مجاوروں کا رہنا درست ہے،حضرت عائشہ صدیقہ روضہ اطہر کی مجاورہ تھیں۔چھٹے یہ کہ عورت بھی مجاورہ ہوسکتی ہے مگر باپردہ اورحیا کے ساتھ۔ ساتویں یہ کہ مجاورہ عورت کو قبر کی زیارت کی اجازت ہے کیونکہ وہ وہاں ہی رہتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع