30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کا طریقہ اور وہاں پڑھنے کی دعائیں سکھائیں۔بعض نے فرمایا کہ عام عورتوں کو زیارت قبور سے روکو جو وہاں رونا پیٹنا کریں،خاص عورتیں جنہیں اس کے احکام معلوم ہوں زیارت قبور کریں۔وَاﷲُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ! اس کی تحقیق ابھی کچھ پہلے ہوچکی۔
|
1768 -[7] وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ يُرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ غُفِرَ لَهُ وَكُتِبَ بَرًّا» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان مُرْسلا |
روایت ہے حضرت محمد ابن نعمان سے وہ اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مرفوع کرتے ہیں ۱؎ فرمایا جو اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کی قبر کی ہر جمعہ میں ۲؎ زیارت کیا کرے تو اس کی بخشش کی جائے گی اور وہ بھلائی کرنے میں لکھا جائے گا۳؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یعنی محمد ابن نعمان اگرچہ تابعی ہیں جنہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کی مگر انہوں نے صحابی کے ذریعہ یہ حدیث حضورصلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کی لہذا حدیث مرسل ہے۔
۲؎ یہاں جمعہ سے مراد یا تو جمعہ کا دن ہے یا پورا ہفتہ۔بہتر ہے کہ ہر جمعہ کے دن والدین کی قبور کی زیارت کیا کرے،اگر وہاں حاضری میسر نہ ہو جیسے کہ یہ فقیر اب پاکستان میں ہے اور میرے والدین کی قبریں ہندوستان میں تو ہر جمعہ کو ان کے لیئے ایصال ثواب کیا کرے۔
۳؎ یعنی ماں باپ کی قبروں کی زیارت کرنے والا گویا اب بھی انکی خدمت کررہا ہے۔جو ثواب ان کی زندگی میں ان کی خدمت کرنے کا ہے وہ ہی ثواب ان کی وفات کے بعد ان کی قبور کی زیارت کا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ والدین کی وفات کے بعد تین کام کرو:ایک یہ کہ ہر جمعہ کو ان کی قبروں کی زیارت کرو،ان کے لیئے دعاءختم وغیرہ پڑھو۔دوسرے یہ کہ ان کے قرض ادا کرو،ان کے وعدے پورے کرو۔تیسرے یہ کہ والد کے دوستوں اور والدہ کی سہیلیوں کو اپنا باپ و ماں سمجھو اور ان کی خدمت کرو،ان کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔
|
1769 -[8] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وتذكر الْآخِرَة» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب ان کی زیارتیں کیا کروکیونکہ یہ دنیا میں بے رغبتی اور آخرت کی یاد پیدا کرتی ہے ۱؎(ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی ممانعت زیارت قبورمنسوخ ہے اب اس کی اجازت ہے۔حق یہ ہے کہ اس اجازت میں مردوعورت سب ہی داخل ہیں جیساکہ اوپرعرض کیا گیا۔اب عورتوں کو اس سے روکنا دوسری وجہ سے ہے۔زیارت قبور سے دل بیدار ہوتا ہے،نفس مرتا ہے اور امراء و سلاطین کی ملاقاتوں سے دل غافل ہوتاہے،نفس موٹا پڑتا ہے۔
|
1770 -[9] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لعن زوارات الْقُبُورِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح وَقَالَ: قَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ هَذَا كَانَ قبل أَن يرخص النَّبِي فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَلَمَّا رَخَّصَ دَخَلَ فِي رُخْصَتِهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا كَرِهَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ لِلنِّسَاءِ لِقِلَّةِ صَبْرِهِنَّ وَكَثْرَةِ جَزَعِهِنَّ. تمّ كَلَامه |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول ا ﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کی زیارت کرنے والیوں پر لعنت کی ۱؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حسن صحیح ہے اور فرمایا کہ بعض اہلِ علم نے سمجھا کہ یہ حکم اس سے پہلے تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زیارت قبور کی اجازت دیں پھر جب اجازت دے ہی دی تو اس اجازت میں مرد عورتیں سب ہی آگئے،بعض نے فرمایا عورتوں کے لیے زیارت قبور ان کے صبر کی کمی اور بے صبری کی زیادتی کی وجہ سے مکروہ ہے ۲؎(ختم شد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع