30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ حق یہ ہے کہ حدیث بالکل اپنے ظاہرمعنے پر ہے اس میں کسی تاویل یا توجیہ کی ضرورت نہیں۔بچوں کی شفاعت بھی حق اور ان کا ماں باپ کو نارو میں لپیٹنا بھی اور اس طرح انہیں جنت میں لے جانابھی درست جیسےکسی آنے والے کے گلے میں باہیں ڈال کر اسے گھر میں لے جاتے ہیں۔خیال رہے کہ اس بچہ کو جھگڑالو فرمانا انتہائی کرم کا اظہار ہے۔
|
1758 -[37] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ رب فرماتا ہے اے ابن آدم اگر تو پہلے صدمہ پر صبراور طلب اجر کرے تو میں تیرے لیئے جنت کے سوا کسی ثواب سے راضی نہ ہوؤں ۱؎(ابن ماجہ) |
۱؎ اگرچہ صبر ہر وقت ہی اچھا ہے مگر نئے صدمے پر بہت اچھا کیونکہ اس وقت گھاؤ تازہ ہوتا ہے اس لیئے اس کا ثواب بھی بڑا۔ خیال رہے کہ بعض شخصوں کو بعض اعمال کا ثواب جنت کے سوابھی دے دیا جاتا ہے جیسے دنیاوی راحتیں وغیرہ مگر مؤمن صابر کا ثواب جنت ہی ہے۔
|
1759 -[38] وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُهَا وَإِنْ طَالَ عَهْدُهَا فَيُحْدِثُ لِذَلِكَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَأَعْطَاهُ مِثْلَ أَجْرِهَا يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت حسین ابن علی سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں ایسا کوئی مسلمان مرد عورت نہیں جسے کوئی مصیبت پہنچی ہوئی اگرچہ پرانی ہوچکی ہو اسے یاد آجائے تو اِنَّا لِلّٰہ پڑھ لے ۱؎ مگر اﷲ تعالٰی اسے اس وقت نیا ثواب دیتا ہے ویسا ہی ثواب جو مصیبت پہنچنے کے دن دیا تھا ۲؎ (احمد،بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یاد آجانا اور ہے یادکرنا،یاد دلانا کچھ اور پہلی چیز قدرتی ہے جس پر ثواب ہے اور آخری دو چیزیں مصنوعی ہیں جن پر عذاب۔ اﷲ کی نعمتوں کو یاد رکھنا ا ور شکر کرنا ثواب ہے مگر اس کی بھیجی مصیبتوں کو بھول جانا ثواب ہے اسی لیے اسلام میں خوشی کی یادگاریں منانا سنت ہے مگر غم کی یادگاریں قائم کرنا حرام۔ربیع الاول میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت بھی ہے اور وفات بھی مگر اس مہینہ میں عیدِمیلاد منائی جاتی ہے نہ کہ غم وفات،حتی کہ اس مہینہ کو بارہ وفات کہنا بھی ناجائز ہے،ہاں ایصال ثواب کے لیئے کسی کی تاریخ وفات مناناجائز ہے نہ کہ رونے پیٹنے کے لیئے۔اسی لیئے فقہاء فرماتے ہیں کہ محرّم میں سید الشہداءامام حسین رضی اللہ عنہ کی یادگار قائم کرنے،ایصال ثواب کرنے،ان کا ذکر کرنے اور سننے کے لیئے مجلسیں منعقدکرنا ثواب ہے۔اس دوران میں اگر رونابھی آجائے تو مضائقہ نہیں مگر رونے پیٹنے کی غرض سے تعزیت کی مجلس منعقدکرنا حرام ہے کہ میت کے غم کی مجلس صرف تین دن تک منعقد کرسکتے ہیں،لہذا اس حدیث سےشیعہ حضرات دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
۲؎ کیونکہ اگرچہ مصیبت پرانی ہوچکی مگر تکلیف تو نئی ہوئی جیسے پرانی نعمت کے نئے شکر پر نیا ثواب ملتا ہے ایسے ہی پرانی مصیبت کے نئے صبرپر نیا ثواب ملے گا۔
|
1760 -[39] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلْيَسْتَرْجِعْ فَإِنَّهُ مِنَ المصائب» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کسی کاتسمہ ٹوٹ جائے تو اِنَّالِلّٰہ پڑھے کہ یہ بھی مصیبتوں سے ہے ۱؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع