دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۲؎  سَرَرْ عربی میں نارو کو کہتے ہیں جو بچے کے ناف میں لمبا سا ہوتا ہے جسے دائی کاٹتی ہے اگرچہ وہ کاٹ کر پھینک دیا جاتاہے مگر قیامت میں اس بچے کے ساتھ ہوگا کیونکہ رب تعالٰی اجزائے بدن کو وہاں جمع فرمادے گا،حتی کہ قلفہ یعنی ختنہ کی کھال بھی وہاں موجود ہوگی،جیساکہ حدیث پاک میں ہے کہ اگرچہ یہ بچہ ماں باپ دونوں ہی کو جنت میں لے جائے گا مگر ماں کا ذکر خصوصیت سے اس لیئے فرمایا کہ ماں کو صدمہ زیادہ ہوتا ہے اور صبرکم۔

1755 -[34]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: " من قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ: كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ " فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ. قَالَ: «وَاثْنَيْنِ» . قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ: قدمت وَاحِد. قَالَ: «وَوَاحِد».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اپنے تین نابالغ بچے آگے بھیج دے تو وہ اس کے لیے آگ سے مضبوط قلعہ ہوں گے ۱؎ حضرت ابوذر نے عرض کیا دو تو میں نے بھی بھیج دیئے فرمایا دو بھی،قاریوں کے سردار ابو المنذر ابی ابن کعب بولے۲؎ کہ میں نے ایک بھیج دیا ہے فرمایا ایک بھی۔(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ کہ جیسے مضبوط ومحفوظ قلعہ میں چور ڈاکو،باہر کی آفتیں،سیلاب کا پانی نہیں پہنچ سکتے اسی طرح اس شخص تک دوزخ کی آگ وہاں کے سانپ بچھو و دیگر عذاب ان بچوں کے سبب سے نہ پہنچ سکیں گے۔

۲؎ حضرت ابی ابن کعب کی کنیت ابو المنذر ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سیدالقراء کا بھی خطاب دیا اور سید الانصار کابھی اورحضرت عمر فاروق نے سید المسلمین کا خطاب دیا،ہر خطاب آپ کے لیئے موزوں ہے اور آپ پر سجتا ہے وہاں سے تمام خطاب صحیح ملتے ہیں۔

1756 -[35]

وَعَنْ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُحِبُّهُ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ. فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا تحب أَلا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ؟» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُ خَاصَّةً أَمْ لِكُلِّنَا؟ قَالَ: «بَلْ لِكُلِّكُمْ» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت قرہ مزنی سے کہ ایک شخص اپنے بچے کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو اس سے محبت کرتا ہے وہ بولا یا رسول اﷲ جتنی میں اس سے محبت کرتا ہوں رب آپ سے بھی اتنی محبت کرے ۱؎ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گم پایا ۲؎ تو پوچھا فلاں کا بیٹا کیا ہوا لوگوں نے کہا یارسول اﷲ وہ مرگیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ پسندنہیں کہ تم جنت کے کسی دروازے پر نہ جاؤ مگر وہاں اسے اپنا انتظارکرتا پاؤ ۳؎ ایک شخص نے کہا یارسول اﷲ کیا یہ خاص اسی کے لیئے ہے یا ہم سب کے لیئے فرمایا بلکہ تم سب کے لیئے۔(احمد)

۱؎ انہیں جواب دینا نہ آیا اپنی زیادتی محبت کو اس طرح ظاہر کیا ورنہ جتنی محبت رب تعالٰی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتاہے اتنی کوئی کسی سے نہیں کرسکتا نہ ماں باپ اکلوتے بیٹے سے،نہ بھائی اپنے بھائی سے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم محبوب اکبر ہیں حتی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن