30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعطیل،امتحان کے لیئے دن مقرر ہوتے ہیں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔اسی طرح میلاد شریف،گیارھویں شریف،عرس بزرگانِ دین کے لیئے دن مقررکرنا جائز ہے کہ ان سب میں دین کی تبلیغ ہوتی ہے،تبلیغ کے لیئے تعین درست۔یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف عورتوں کو وعظ سناناجائز ہے بشرطیکہ غیرمحرم عورتیں پردہ میں رہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی عورت پر پردہ فرض نہ تھا کہ حضور امت کے لیئے مثل والد کے ہیں پھربھی حضور بہت احتیاط فرماتے تھے۔
۲؎ یوم سے مراد دن ہے اور جگہ شاید مسجد میں ہوگی یا کسی اور جگہ گھر میں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ استاد ہی شاگردوں کو اپنے گھر نہ بلائے بلکہ کبھی شاگردوں کے گھر جاکربھی تعلیم دیا کرے یا کسی تیسری جگہ کو مقرر کردے جو نہ استاد کا گھر ہو نہ شاگرد کا،لہذا یہ حدیث موجود دینی مدرسوں کی اصل ہے جہاں شاگرد استاد جمع ہوکر علم سیکھیں سکھائیں،اگرچہ بہتر یہ ہی ہے کہ شاگرد استاد کے پاس جاکر سیکھے،موسیٰ علیہ السلام خضر علیہ السلام کے پاس علم سیکھنے گئے تھے،خضر علیہ السلام آپ کے پاس نہ آئے تھے۔
۳؎ شاید یہ واقعہ ایک ہی بار ہوا اور ہوسکتا ہے کہ بارہا اس مدرسہ میں یہ اجتماع ہوتا رہا کیونکہ عَلَّمَ باب تفعیل سے ہے جو آہستگی و تدریج بتاتا ہے۔
۴؎ آگے بھیجنے سے مراد یہ ہے کہ ماں کی زندگی میں بچے فوت ہوں اور وہ ان پر صبرکرے،یہ مطلب نہیں کہ انہیں ہلاک کردے۔
۵؎ یہاں واؤ،بمعنی اَوْ ہے اور اِثْنَیْنِ کی تکرار تاکید کے لیئے ہے یعنی یا دو فوت ہوں یا دو یا دو۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رحمتِ الٰہی کے بااختیارقاسم ہیں اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کُنْ کی کنجی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا کہ مجھے تو رب تعالٰی نے تین بچے فوت ہونے کے متعلق فرمایا تھا اچھا اب جب جبریل آئیں گے تو ان کے ذریعہ رب سے پوچھوا لیں گے بلکہ خود ہی یہ جواب دے دیا۔
|
1754 -[33] وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ الله أَو اثْنَان؟ قَالَ: «أواثنان» . قَالُوا: أَوْ وَاحِدٌ؟ قَالَ: «أَوْ وَاحِدٌ» . ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْ قَوْلِهِ: «وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِهِ» |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دو مسلمان نہیں جن کے تین بچے فوت ہوجائیں مگر اﷲ اپنے فضل سے انہیں جنت میں داخل فرماتا ہے ۱؎ لوگ بولے یارسول اﷲ یا دو فرمایا لوگ بولے یا ایک فرمایا یا ایک ۲؎ پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کچا بچہ اپنی ماں کو اپنے نارو سے جنت کی طرف کھینچے گا جب کہ وہ طالب ثواب ہو۳؎(احمد) ابن ماجہ نے"وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ"سے روایت کی۔ |
۱؎ دو مسلمانو ں سے مراد ماں باپ ہیں جن کے چھوٹے بچے فوت ہوں اور وہ صبر کریں
۲؎ اس ترتیب سے کمال و نقصان کی طرف اشارہ ہے یعنی اول نمبر اور کامل مستحق رحمت تو وہ ہیں جوتین بچوں پرصبر کریں،پھر وہ بھی جو دو یا ایک پرصبرکریں کہ یہ دونوں پہلے کے ساتھ ملحق ہیں۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع