30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1752 -[31] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: مَاتَ ابْنٌ لِي فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ شَيْئًا يَطَيِّبُ بِأَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يلقى أحدهم أَبَاهُ فَيَأْخُذ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم وَأحمد وَاللَّفْظ لَهُ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص نے ان سے کہا کہ میرا بچہ فوت ہوگیا جس پر میں بہت غمگین ہوں کیا آپ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات سنی ہے جواپنے مُردوں کے متعلق ہمارا دل خوش کردے ۱؎ فرمایا ہاں میں نے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مسلمانوں کے بچے جنت کی چڑیاں ہیں ۲؎ ان میں سے کوئی اپنے باپ سے ملے گا اس کے دامن کا پلو پکڑ لے گا اسے نہ چھوڑے گاحتی کہ اسے جنت میں داخل کرلے گا۳؎(مسلم، احمد)لفظ احمد کے ہیں۔ |
۱؎ یعنی ہم کو اپنے مُردوں پر ثواب کے متعلق کوئی ایسی حدیث سنائیے جس سے ہمارے بے چین دل کو چین نصیب ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام قرآن و حدیث سے اﷲ کے ذکر کو دلی تسکین کاباعث سمجھتے تھے،رب فرماتا ہے:"اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ"اﷲ کے ذکر سے بے چین دل چین پاتے ہیں۔آج ہم ر نج و غم دور کرنے کے لیئے گانے باجے، کھیل تماشہ استعما ل کرتے ہیں،غم کا علاج اﷲ کا ذکر،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننا ہے۔
۲؎ دَعا میص دعموصٌ کی جمع ہے،جس کے معنے ہیں گھس جانا یا پھرنا اسی لئے ایک دریائی جانور کو دعموص کہتے ہیں کہ وہ پانی میں بے تکلف گھس جاتاہے اور اس میں پھرتا ہے۔چڑیوں کوبھی دعموصہ اس لیئے کہا جاتاہے کہ وہ بے تکلف ہوا میں ہر گھر میں پھرتی ہیں نہ ان سے کوئی پردہ و حجاب کرے نہ انہیں کہیں آنے سے جانے سے روک ٹوک یعنی مسلمانوں کے بچے جنت کے سیاح ہیں کہ وہاں ہر جگہ کی بے تکلّف سیرکرتے ہیں۔
۳؎ یعنی بچہ جب باپ کو بغیر بخشوائے نہ چھوڑے گا تو ماں کا کیا پوچھنا ماں کا حق تو باپ سے زیادہ ہے۔خیال رہے کہ قیامت میں مردے ننگے اٹھیں گے مگر محشر میں پہنچ کر انہیں لباس پہنادیا جائے گا،یہ حدیث بالکل ظاہر پر ہے کہ بچہ اپنے ماں باپ کے دامن کا پلو(گوشہ)پکڑ کربخشوائے گا۔اس پر یہ اعتراض نہیں کہ وہاں سب ننگے ہوں گے پھر دامن کا گوشہ پکڑنے کے کیا معنے۔کیونکہ ننگے ہونے کا اور وقت ہے اور یہ دوسرا وقت۔
|
1753 -[32] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ. فَقَالَ: «اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا» فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمَ بَيْنَ يَدَيْهَا من وَلَدهَا ثَلَاثَة إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابا ن النَّارِ» فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوِ اثْنَيْنِ؟ فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ. ثُمَّ قَالَ: «وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوسعید فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر بولی یا رسول اﷲ مرد آپ کی احادیث لے گئے ہمیں بھی اپنی ذات شریف سے ایک دن عطا کریں جس سے ہم آپ کے پاس آجایاکریں کہ آپ ہمیں ان میں سے کچھ سکھایا کریں جو اﷲ نے آپ کو سکھایا ۱؎ فرمایا فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہوجایاکریں۲؎ چنانچہ وہ جمع ہوگئیں ان کے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور رب کے سکھائے سے انہیں سکھایا ۳؎ پھر فرمایا تم میں ایسی کوئی عورت نہیں جو اپنے تین بچے آگے بھیج دے ۴؎ مگر وہ اس کے لیئے آگ سے آڑ ہوں گے تو ان میں سے ایک عورت بولی یارسول اﷲ یا دو اس نے دوبارہ یہ سوال دہرایا تو آپ نے فرمایا اور دو اور دو اور دو۔(بخاری)۵؎ |
۱؎ یعنی مَردوں نے آپ کا فیض صحبت بہت حاصل کیا ہر وقت آپ کی احادیث سنتے رہتے ہیں ہم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا اتنا موقعہ نہیں ملتا مہینہ میں یا ہفتہ میں ایک دن ہم کوبھی عطا فرمائیں کہ اس میں صرف ہم کو وعظ فرمایاکریں۔اس سے معلوم ہوا کہ تبلیغ وغیرہ کے لیئے دن مقررکرنا بالکل جائز بلکہ سنت ہے۔آج مدرسوں میں تعلیم،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع