30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1750 -[29] وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَأَبِي بَرْزَةَ قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدَيْتَهُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ؟ أَوْ بِصَنِيعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ؟ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ» قَالَ: فَأخذُوا أرديتهم وَلم يعودوا لذَلِك. رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین و ابی برزہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو آپ نے ایک قوم کو دیکھا جو اپنی چادریں پھینک گئے تھے اور قمیصوں میں چلتے تھے ۱؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جاہلیت کا کام اختیار کرتے ہویا جاہلیت کے عمل سے مشابہت کرتے ہو دل چاہتا ہے کہ تمہیں ایسی بددعا دوں کہ تم اپنی غیرصورتوں میں لوٹ جاؤ ۲؎ فرمایا کہ انہوں نے فورًا ا پنی چادریں اٹھالیں اور پھر یہ کبھی نہ کیا۔(ابن ماجہ) |
۱؎ زمانۂ جاہلیت میں دستور تھا کہ جب میت کو دفن کرنے لے جاتے تو پہچانے والے اپنی چادریں راستے میں پھینک جاتے اور لوٹتے میں واپس اٹھا تے،وہ اس میں اظہارغم سمجھتے تھے جیسے آج بعض جاہل مسلمان اظہار غم کے لیئے کالے کُرتے پہنتے ہیں یا اپنے بازؤوں پر کالے کپڑے کی پٹیاں باندھ لیتے ہیں۔کسی کی موت پر خصوصًا اور محرّم میں عمومًا اسے اظہارغم سمجھتے ہیں یہ حرام ہے اور جاہلیت کے زمانہ کا فعل ہے۔رنج و غم دل سے ہوتا ہے نہ کہ کالے پیلے کپڑوں سے۔
۲؎ یعنی تمہاری صورتیں مسخ ہو جائیں۔معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس فعل کوعملی نوحہ قرار دیا اور سخت بددعا کا ارادہ فرمایا،اب جو مسلمان ایسا کرے وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کرتا ہے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا لینے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ یہ فیشنی غم ہے نہ کہ حقیقی رنج۔
|
1751 -[30] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جَنَازَةٌ مَعهَا رانة. رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ نوحہ والی ہوا ۱؎(احمد،ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی میت کے ساتھ رونے پیٹنے والی ہو وہاں نہ جائے جیساکہ بعض جگہ رواج ہے کہ میت کے ساتھ قبرستان تک روتی پیٹتی عورتیں جاتی ہیں اور اگر یہ عورتیں میت سے دور ہوں تو عالم شیخ اور بزرگان دین تو اس میں شرکت نہ کریں عوام کرسکتے ہیں،جیسے کہ دعوتِ ولیمہ میں اگر دستر خوان پر ناچ گاناہے تو وہاں کوئی نہ جائے اور اگر وہاں سے دُور ہے تو مشائخ کرام و علماء عظام نہ جائیں تاکہ صاحب خانہ اس سے توبہ کرے عوام جاسکتے ہیں،لہذا یہ حدیث اس فقہی مسئلہ کے خلاف نہیں کہ نوحہ گر کی وجہ سے میت کے کفن دفن میں شرکت کو نہ چھوڑو کیونکہ وہ حکم عوام کے لیئے اور یہ حدیث خواص کے لیئے یا وہ حکم وہاں ہے جب نوحہ دور ہو اور یہ حکم وہاں ہے جہاں نوحہ بالکل میت سے متصل ہو،وہ مسئلہ فقہی بھی درست ہے اور یہ حدیث بھی۔
|
1752 -[31] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: مَاتَ ابْنٌ لِي فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ شَيْئًا يَطَيِّبُ بِأَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يلقى أحدهم أَبَاهُ فَيَأْخُذ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم وَأحمد وَاللَّفْظ لَهُ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص نے ان سے کہا کہ میرا بچہ فوت ہوگیا جس پر میں بہت غمگین ہوں کیا آپ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات سنی ہے جواپنے مُردوں کے متعلق ہمارا دل خوش کردے ۱؎ فرمایا ہاں میں نے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مسلمانوں کے بچے جنت کی چڑیاں ہیں ۲؎ ان میں سے کوئی اپنے باپ سے ملے گا اس کے دامن کا پلو پکڑ لے گا اسے نہ چھوڑے گاحتی کہ اسے جنت میں داخل کرلے گا۳؎(مسلم، احمد)لفظ احمد کے ہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع