دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۱؎ یہ حدیث گزشتہ کی شرح ہے۔عمر فاروق نے ابھی کوڑے کسی کو مارے نہ تھے بلکہ مارنا چاہتے تھے جس سےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا اس ارادہ کی وجہ وہی ہے جو ابھی عرض کرچکے کہ آپ مطلقًا رونے کو بھی نوحہ سمجھتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر طاقت ہو تو برائی کو ہاتھ سے روکے ورنہ زبان سے اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو دل سے برا جانے۔

۲؎ یعنی دل کا رنج اور آنکھ کے آنسو بندے کے اختیار میں نہیں یہ قدرتی چیز ہے دل میں رقت اور رحمت کا نتیجہ ہیں اور زبان سے بکواس ہاتھ سے ماتم شیطانی عمل ہے بندہ اپنے اختیار اور شیطان کے بہکانے سے کرتا ہے۔خیال رہے کہ ہر اچھے برے کام کا خلق رب کی طرف سے ہے مگر نسبت میں ادب چاہیئے اچھے کام کو رب کی طرف منسوب کرو اور برے کو شیطان کی جانب یا اپنی طرف نسبت دو،اس حدیث میں اسی جانب اشارہ ہے۔

1749 -[28]

وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: لَمَّا مَاتَ الْحَسَنُ بن الْحسن بن عَليّ ضَرَبَتِ امْرَأَتُهُ الْقُبَّةَ عَلَى قَبْرِهِ سَنَةً ثُمَّ رَفَعَتْ فَسَمِعَتْ صَائِحًا يَقُولُ: أَلَا هَلْ وَجَدُوا مَا فَقَدُوا؟ فَأَجَابَهُ آخَرُ: بَلْ يَئِسُوا فَانْقَلَبُوا

روایت ہے بخاری سے تعلیقًا فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسن ابن حسن ابن علی ۱؎ فوت ہوئے تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک قبہ ڈالے رکھا ۲؎ پھر اٹھا لیا تو کسی پکارنے والے کو سنا جوکہتا تھا کیا انہوں نے جو کھویا تھا وہ پالیا دوسرے نے جواب دیا بلکہ مایوس ہوکر چل دیئے۳؎

۱؎ آپ کا لقب حسین مثنی ہے،امام حسن کے فرزند علی مرتضٰے کے بڑے پوتے ہیں۔

۲؎ مرقات نے فرمایا کہ یہ قبہ احباب کے جمع ہونے اور ان کی قبر پر تلاوت قرآن و فاتحہ پڑھنے کے لیئے تھا عبث یا ناجائز نہ تھا کہ اہل بیت اطہار ایسا کام کبھی نہیں کرتے خصوصًا صحابہ کی موجودگی میں۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ خود آپ کی بیوی ایک سال تک اس قبہ میں حضرت حسن کی قبر پر رہیں۔ہوسکتا ہے کہ اس قبہ کے دو حصے ہوں ایک میں آپ رہتی ہوں اور دوسرے حصہ میں احباب جمع ہوکر فاتحہ پڑھتے ہوں۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بزرگ کے مزارات پر زائرین کی آسانی کے لیئے گنبد عمارت بناناجائزہے۔دوسرے یہ کہ وہاں مجاوروں کا بیٹھنا درست ہے یہ دونوں کام اہل بیت نبوت نے صحابہ کرام کی موجودگی میں کیئے کسی نے منع نہ کیا لہذا یہ دونوں عمل سنت صحابہ و سنت اہل بیت ہے اس کی بحث پہلے ہوچکی۔

۳؎ یہ آواز ہاتف غیبی کی تھی جس میں بتایا گیا کہ کسی کی موت پر بہت غم کرنا،گھر چھوڑ کر جنگل میں بیٹھ جانا مردے کو واپس نہیں لے آتا۔خیال رہے کہ یہ نداء ہم لوگوں کو سنانے کے لیئے ہے نہ کہ اہل بیت نبوت پر عتاب کے لیئے،انہوں نے کوئی ناجائز کام نہ کیا تھا اسی لیئے ا س ندا میں ڈانٹ ڈپٹ یا ان کے اس فعل پر حرام ہونے کا فتوی ٰ نہیں۔

1750 -[29]

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَأَبِي بَرْزَةَ قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدَيْتَهُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ؟ أَوْ بِصَنِيعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ؟ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ» قَالَ: فَأخذُوا أرديتهم وَلم يعودوا لذَلِك. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین و ابی برزہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو آپ نے ایک قوم کو دیکھا جو اپنی چادریں پھینک گئے تھے اور قمیصوں میں چلتے تھے ۱؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جاہلیت کا کام اختیار کرتے ہویا جاہلیت کے عمل سے مشابہت کرتے ہو دل چاہتا ہے کہ تمہیں ایسی بددعا دوں کہ تم اپنی غیرصورتوں میں لوٹ جاؤ ۲؎ فرمایا کہ انہوں نے فورًا ا پنی چادریں اٹھالیں اور پھر یہ کبھی نہ کیا۔(ابن ماجہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن