دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

1746 -[25]

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا من ميت يَمُوت فَيقوم باكيهم فيقولك: واجبلاه واسيداه وَنَحْوَ ذَلِكَ إِلَّا وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكَيْنِ يَلْهَزَانِهِ وَيَقُولَانِ: أَهَكَذَا كُنْتَ؟ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایسی کوئی میت نہیں جو مرجائے تو ان کے رونے والا اٹھ کر کہے ہائے میرے پہاڑ، ہائے میرے سردار وغیرہ مگر اﷲ اس پر دو فرشتے مقررکردیتا ہے جو اسے جھنجھوڑتے ہیں کہتے ہیں تو کیا ایسا ہی تھا ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب حسن ہے۔

۱؎ یَلْھَزَانِ لَھْزٌ سے بنا،بمعنی تھپڑ مارنا،نیز منہ پیٹنا جھنجھوڑنا،یہاں تینوں معنے ہوسکتے ہیں اور وہ مردہ مراد ہے جو زندگی میں نوحہ سے راضی ہو یا مرتے وقت اس کی وصیت کر گیا ہو۔اس عذاب کے متعلق علماء کے دس قول ہیں مگر قوی قول وہی ہے جو فقیر نے عرض کیا کہ اگر میت نوحہ سے راضی ہو یا اس کی وصیت کر گیا ہو تو اسے نوحہ پر سزا ملتی ہے ورنہ نہیں اس کا ذکر پہلے ہوچکا۔

1747 -[26]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُنَّ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالْقَلْبَ مُصَابٌ وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ آل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کوئی میت فوت ہوئی تو عورتیں جمع ہوکر اس پر رونے لگیں حضرت عمر کھڑے ہو کر انہیں منع کرنے اور ڈانٹنے لگے تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر انہیں چھوڑدو کیونکہ آنکھیں بہتی ہیں،دل مصیبت زدہ ہے اور واقعہ غم تازہ ہے ۱؎ (احمد،نسائی)

۱؎ یہ میت حضرت زینب بنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تھیں جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔حضرت عمر فاروق سمجھے تھے کہ میت پر رونا ہی حرام ہے اس وقت تک آپ کو نوحہ اور رونے میں فرق معلوم نہ تھا اس لیئے آپ نے یہ سختی فرمائی،آپ نے اہل قرابت کو رونے سے منع کیا اور اجنبی عورتوں کو ڈانٹ ڈپٹ کی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان شریف میں فرق کرکے دکھادیا کہ نوحہ منع ہے اور رونا جائز،یہاں جائز کام ہورہا ہے تم منع نہ کرو کیونکہ غم تازہ ہے اور دل کا زخم ہرا ہے بعد میں خود بخود صبر آجائے گا۔

1748 -[27]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَتِ النِّسَاء فَجعل عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ فَأَخَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ: «مهلا يَا عمر» ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَمِنَ الْقَلْبِ فَمِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَةِ وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَمِنَ اللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ زینب بنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئیں عورتیں روئیں تو جناب عمر انہیں کوڑے سے مارنے لگے ۱؎ انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ہٹا دیا فرمایا اے عمر چھوڑو بھی پھر فرمایا شیطانی آواز سے پرہیز کرنا پھر فرمایا جو کچھ آنکھ اور دل سے ہو۲؎ تو وہ اﷲ کی طرف سے ہے اور رحمت ہے اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو وہ شیطان کی طرف سے ہے۔(احمد)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن