30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1742 -[21] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: تُوُفِّيَتْ بِنْتٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بن عمر لعَمْرو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ: أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ» . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ. ثُمَّ حَدَّثَ فَقَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ فَإِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ فَقَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ؟ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ. قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: ادْعُهُ فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يبكي يَقُول: وَا أَخَاهُ واصاحباه. فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؟» فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِك لعَائِشَة فَقَالَت: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ لَا وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَلَكِنْ: إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ. وَقَالَتْ عَائِشَةُ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ: (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وزر أُخْرَى)قَالَ ابْن عَبَّاس عِنْد ذَلِك: وَالله أضح وأبكي. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَمَا قَالَ ابْنُ عمر شَيْئا |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی ملیکہ سے فرماتے ہیں کہ عثمان ابن عفان کی بیٹی مکہ میں فوت ہوئیں ۱؎ تو ہم جنازہ میں شرکت کے لیئے آئے وہاں ابن عمر اور ابن عباس بھی تھے میں ان دونوں بزرگوں کے درمیان بیٹھا تھا ۲؎ تو عبداﷲ ابن عمر نے ابن عثمان سے جو ان کے سامنے تھے فرمایا کیا تم رونے سے منع نہیں کرتے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتاہے۳؎ حضرت ابن عباس بولے کہ جناب عمربھی کچھ ایسا ہی کہتے تھے پھر آپ نے قصہ سنایا فرمایا کہ میں حضرت عمر کے ساتھ مکہ سے لوٹا حتی کہ جب ہم مقام بیداء میں تھے۴؎ تو ایک خاردار درخت کے سائے کے نیچے ایک قافلہ تھا نظر پڑی آپ نے فرمایا جاؤ دیکھو یہ سوار کون ہے میں نے دیکھا تو حضرت صہیب تھے فرماتے ہیں میں نے آپ کو خبر دی فرمایا انہیں بلالو ۵؎ میں حضرت صہیب کے پاس لوٹ گیا میں نے کہا چلو امیر المؤمنین کے ساتھ مل جاؤ پھر جب حضرت عمر شہید کیے گئے تو ۶؎ صہیب روتے ہوئے آئے کہتے تھے ہائے میرے بھائی ہائے میرے ساتھی جناب عمر نے فرمایا اے صہیب کیا تم مجھ پر روتے ہو حالانکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیاجاتاہے ۷؎ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب عمر فاروق نے وفات پائی تو میں نے حضرت عائشہ سے اس کا ذکر کیا آپ بولیں اﷲ عمر پر رحم کرے رب کی قسم رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیاجاتاہے لیکن اﷲ کافر کا عذاب اس کے اہل کے رونے سے بڑھا دیتا ہے ۸؎ حضرت عائشہ نے فرمایا تمہیں قرآن کافی ہے کہ کوئی بوجھل جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی ۹؎ اس وقت حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اﷲ ہنساتا رولاتا ہے ۱۰؎ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے کچھ نہ فرمایا ۱۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ ہم "باب الجمعہ"میں عرض کرچکے ہیں کہ حضرت عثمان غنی نے اپنا ایک گھر مکہ معظمہ میں رکھا تھا جہاں ایک بیوی صاحبہ رہتی تھیں غالبًا یہ ان کی بیٹی تھی۔
۲؎ یعنی مجھے ان بزرگوں سے بہت قرب تھا لہذا میں نے جو کچھ ان سے سنا وہ ٹھیک سنا کیونکہ ان سے دور نہ تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع