30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1734 -[13] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَله بَابَانِ: بَاب يصعد مِنْهُ علمه وَبَابٌ يَنْزِلُ مِنْهُ رِزْقُهُ. فَإِذَا مَاتَ بَكَيَا عَلَيْهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: (فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاء وَالْأَرْض)رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مؤمن کے دو دروازے ہیں ایک دروازہ وہ جس سے اس کے عمل چڑھتے ہیں دوسرا وہ جس سے اس کی روزی اترتی ہے،جب مؤمن مرجاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں یہ ہی رب کا فرمان ہے کہ کفار پر آسمان و زمین نہیں روتے ہوتے ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ اندازہ لگاؤ کہ آسمان میں کتنے دروازے ہوں گے کہ سارے انسانوں میں سے ہر ایک کے لیئے دو دروازے ہیں:روزی آنے کا اور نیک اعمال جانے کا مگر کافر کا اعمال والا دروازہ بندرہتاہےکہ اس کی کوئی نیکی قبول نہیں اور مؤمن کی نیکیاں اس دروازے سے جاتی ہیں اورعلیین میں لکھی جاتی ہیں،مؤمن کے مرنے پر یہ دروازے روتے ہیں اور کافر کے مرنے پر خوش ہوتے ہیں، یہ حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،ہر چیز میں احساس ہے۔
|
1735 -[14] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ كَانَ لَهُ فرطان من متي أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِمَا الْجَنَّةَ ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ مَنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ» . فَقَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت میں سے جس کے دو بچے فوت ہوں گے اﷲ اسے اس کی برکت سے جنت میں داخل کرے گا تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ جس امتی کا ایک ہی فرط(پیشرو)ہوں ۱؎ انہیں میری جیسی مصیبت نہ پہنچے گی۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ فوت شدہ چھوٹے بچوں کو فرط اس لیئے فرمایا کہ وہ اپنے صابر ماں باپ کو جنت پہنچائے گا،نیز وہ آگے پہنچ کر اس کے اجر کا باعث بنتا ہے۔فرط کےمعنی پہلے ہوچکے وہ پیش رو جماعت جومنزل پرقافلہ سے آگے پہنچے اورتمام چیزوں کا انتظام کرے۔اس حدیث کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ایسے صابر کا فرط میں نہیں صرف بچے ہی ہیں،بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسے صابر کا فرط بچے بھی ہیں میں بھی اور دوسروں کا فرط میں ہی ہوں۔سبحان اﷲ!کیسی امید افزاءحدیث ہے۔
۲؎ یعنی میری امت کے لیئے جیسی مصیبت اور تکلیف کاباعث میری وفات ہے ایسی انہیں کوئی مصیبت نہیں اور یہ حقیقت بھی ہے جن لوگوں نےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات دیکھی ان پر جو مصیبت پڑی وہ تو وہی جان سکتے ہیں۔آج جس وقت حضورصلی اللہ علیہ وسلم یاد آتے ہیں تو عاشقوں کے کلیجے پھٹ جاتے ہیں۔مدینہ منورہ سے چلتے وقت زائرین کا جو حال ہوتا ہے وہ نہ پوچھو،مدینہ کے در و دیوار کا فراق ستاتاہے۔میں نے مسجد نبوی شریف کی چوکھٹ سے لپٹ کر لوگوں کو روتے دیکھا ہے۔
بدن سے جان نکلتی ہے آہ سینہ سے تیرے فدائی نکلتے ہیں جب مدینہ سے
فقیر نے تیسرے حج پر رخصت کے وقت مدینہ کے درو دیوار سے عرض کیا تھا۔
جا رہا ہے اب ہمارا قافلہ اے در و دیوار شہرِ مصطفی
یاد تیری جس گھڑی بھی آئے گی ہے یقین دل کو بہت تڑپائے گی
غرض یہ حدیث بالکل حق اور صحیح ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فراق ساری امت کے لیئے مصیبت عظمٰی ہے۔یہ قصیدہ وداعیہ فقیر کی کتاب "دیوان سالک"میں دیکھئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع