30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جھوٹے اوصاف بیان کرکے رونا نوحہ ہے۔مذبہ جائز ہے،نوحہ حرام۔حضرت فاطمۃ الزہرہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر مذبہ کیا تھا نوحہ نہیں۔
۲؎ رال میں آگ جلدلگتی ہے اور سخت گرم بھی ہوتی ہے۔جرب وہ کپڑا ہے جو سخت خارش میں پہنایاجاتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ نائحہ پر اس دن خارش کا عذاب مسلّط ہوگا کیونکہ وہ نوحہ کرکے لوگوں کے دل مجروح کرتی تھی تو قیامت کے دن اسے خارش سے زخمی کیاجائے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ نوحہ خواہ عملی ہو یا قولی سخت حرام ہے،چونکہ اکثرعورتیں ہی نوحہ کرتی ہیں اس لیے عمومًا نائحہ تانیث کا صیغہ فرمایا۔
|
1728 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ: «اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي» قَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي وَلَمْ تَعْرِفْهُ فَقِيلَ لَهَا: إِنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَتَتْ بَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِينَ فَقَالَتْ: لَمْ أَعْرِفْكَ. فَقَالَ: «إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت پرگزرے جو قبر کے پاس رو رہی تھی فرمایا اﷲ سے ڈر اور صبرکر وہ بولی میرے پاس سے ہٹ جائیے آپ کو میری سی مصیبت نہیں پہنچی اس نے حضورکو پہچانا نہیں ۱؎ تو اسے بتایا گیا یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو وہ حضور کے آستانہ پر آئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کوئی دربان نہ پایا ۲؎ عرض کیا حضور میں نے آپ کو پہچانا نہیں فرمایا صبرشروع صدمے پر ہی ہوتا ہے۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ نہ پہچاننابھی شدت غم سے ہوگا ورنہ وہ تو اہل مدینہ سےتھی،آپ کو تو باہر کے اجنبی لوگ بھی پہچان لیتے تھے،گلی سے گزرتے تو گھروں والے خوشبو کی مہک سے پہچان جاتے،آپ کو تو کنکرپتھر،جن و انس،چاند تارے،سورج پہچانتے ہیں۔خیال رہے کہ جو کچھ اس نے کہا یہ لفظ کفر تھا کہ ا س میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے،مگر چونکہ غم کی مدہوشی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر پہچانے کہا ہے اس لیے وہ اسلام سے خارج نہ ہوئی۔فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر جانکنی کی شدت میں مرنے والے سے کوئی کفر کی بات سنی جائے تو اسے کافر نہ کہا جائے گا اس کی نماز جنازہ اور دفن ہوگا کیونکہ مدہوشی کا کفرمعتبرنہیں،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۲؎ آئی معافی مانگنے،اس خیال میں تھی کہ شہنشاہ کونین کا آستانہ ہے،دروازۂ عالیہ پر بہت دربان ہوں گے نہ معلوم میں وہاں پہنچ سکوں یا نہیں اور معذرت کرسکوں یا نہیں،یا تو کہیں باہر کی تھی یا یہ خیال بھی اس غم کی مدہوشی میں تھا ورنہ مدینہ کی عورتیں آستانہ پاک پر حاضر ہوتی رہتی تھیں۔
۳؎ یعنی شروع صدمہ پر دل میں جوش ہوتاہے،اس وقت اس جوش کو روکنا بڑے بہادروں کا کام ہے۔صبر سے مراد کامل صبر ہے جس پر بہت ثواب ملے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس بی بی کو نہ اپنی بے ادبی سے توبہ کرائی اور نہ گزشتہ رونے پیٹنے سے کیونکہ وہ معذور تھی بلکہ آئیندہ کے لیے نصیحت فرمادی۔قبر پر جاکر رونا منع نہیں وہاں پیٹنا منع ہے۔
|
1729 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا يَمُوت لمُسلم ثَلَاث مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجُ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جس کے تین بچے مرجائیں پھر وہ آگ میں جائے مگر قسم پوری کرنے کو ۱؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع