30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1726 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أبي بردة قَالَ: أُغمي على أبي مُوسَى فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمِي؟ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَصَلَقَ وَخَرَقَ» . وَلَفظه لمسلم |
روایت ہے حضرت ابوبردہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ بے ہوش ہوئے تو ان کی بیوی ام عبداﷲ پر چیخ کر روتی آئیں ۲؎ پھر انہیں آرام ہوا تو فرمایا کیا تم جانتی نہیں آپ انہیں حدیث سنایا کرتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس سے بیزار ہوں جو سر منڈائے،چیخیں مارے،کپڑے پھاڑے۳؎ (مسلم،بخاری)لفظ مسلم کے ہیں۔ |
۱؎ آپ کا نام عامر ابن عبداﷲ ابن قیس ہے،تابعین میں سے ہیں اورعبداللہ ابن قیس یعنی ابوموسیٰ اشعری کے فرزند ہیں،حضرت علی کی طرف سے قاضی شریح کے بعد کوفہ کے قاضی رہے،پھر حجاج نے آپ کو معزول کیا۔
۲؎ رَنَّہ عربی میں رونے کی کانپتی آواز کو کہتے ہیں۔
۳؎ یعنی میں تمہیں ہمیشہ یہ حدیث سناتا رہا تم میرے جیتے جی ہی بھول گئیں۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ عرب میں بھی کسی کی موت پر سر منڈانے کا رواج تھا جیسے ہمارے ہاں ہندو سر،ڈاڑھی اورمونچھیں سب منڈوا دیتے ہیں جسے بھدرا کہتے ہیں،مگر مرد منڈاتے ہیں عورتیں نہیں یہ بھی بے حیائی کی علامت ہے۔خیال رہے کہ صحابہ کرام ایسی حالت میں تبلیغ اور اپنے بال بچوں کی اصلاح سے غافل نہیں رہتے تھے۔
|
1727 -[6] وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ ". وَقَالَ: «النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قطران وَدرع من جرب» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امت میں جہالت کی چار باتیں ہیں جنہیں وہ نہ چھوڑیں گے:قومی فخر،نسب میں طعنے اور تاروں سے بارش مانگنی اور نوحہ ۱؎ فرمایا اگر نوحہ والی موت سے پہلے توبہ نہ کرلے تو قیامت میں اس طرح کھڑی ہوگی کہ اس پر رال کا لباس اور جرب کی قمیص ہوگی۲؎ (مسلم) |
۱؎ اس میں غیبی خبر ہے جو بالکل سچی ہوئی،مسلمانوں میں اب تک عمومًا چاروں عیوب موجود ہیں۔کبھی حسب اور نسب ایک ہی معنی میں آتے ہیں مگر کبھی یوں فرق کردیتے ہیں کہ اماں کی طرف سے رشتوں کا نام حسب ہے اور باپ کی طرف کا نام نسب۔کبھی اس طرح کہ باپ دادوں کے اوصاف شمارکرنا جب کہ ان کی قومیت و ذات بتاتے پھرنا نسب۔کفار کے مقابلہ میں حسب و نسب پر فخرکرنابھی عبادت ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین میں کفار سے فرمایا اَنَا اِبْنُ عَبْد الْمُطَّلِب(جانتے ہو میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں)مگر مسلمان کے کسی نسب کو ذلیل جاننا یا انہیں کمین کہنا حرام ہےمسلمان شریف ہیں اگرچہ سیدحضرات حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کی وجہ سے اشرف ہیں مگر انہیں بھی کسی مسلمان کو کمین کہنے کا کوئی حق نہیں،ہاں مسلمانوں کو ان کا احترام کرنا چاہیے۔نسب انبیاء اﷲ کی رحمت ہے۔اس کی پوری تحقیق ہماری "کتاب الکلام المقبول فی شرافۃ نسب الرسول" میں ملاحظہ کیجئے۔تاروں سے اوقات معلوم کرنا اور راستوں و سمتوں کا پتہ لگانا جائز ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَبِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ"مگر ان میں بارش وغیرہ کی تاثیریں ماننا اور ان سے غیبی خبریں معلوم کرنا حرام ہے،لہذا علم نجوم باطل ہے علم توقیت حق۔مردے کے سچے اوصاف بیان کرنا مذبہ کہلاتا ہے اوراس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع