30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ زمانۂ جاہلیت میں دستور تھا کہ جنازہ کے ساتھ پیٹنے والی عورتیں بھی جاتی تھیں اور آگ بھی کیونکہ وہ آگ کا احترام کرتے تھے اس لیے آپ نے اپنے بیٹے عبداﷲ کو یہ وصیت کی اور یہ وصیت دوسروں کو سنانے کے لیے تھی،ورنہ ان کے بیٹے عبداﷲ خود صحابی ہیں وہ کیسے یہ کام کرسکتے تھے۔سبحان اﷲ! کیسے پاکباز لوگ ہیں کہ وفات کے وقت بھی تبلیغ کررہے ہیں۔
۲؎ اس وصیت سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ دفن کے وقت قبر پرمٹی آہستگی سے ڈالی جائے کیونکہ شن آہستہ مٹی ڈالنے کو کہتے ہیں گویا چھڑکنا۔دوسرے یہ کہ بعد دفن قبر کے آس پاس حلقہ باندھ کر کھڑے ہونا سنت ہے۔تیسرے یہ کہ میت حاضرین کو جانتا پہنچانتاہے اور ان کی موجودگی سے اس کی وحشت قبر دور ہوتی ہے،اُنس حاصل ہوتاہے۔چوتھے یہ کہ حاضرین کا میت کو بعد دفن تلقین کرنا،یعنی کلمہ طیبہ یا اذان سناکر اسے سوالات نکیرین کے جوابات بتانا سنت سے ثابت ہے۔ آپ کی وصیت کا منشاءیہ ہے کہ بعد دفن قبر کا گھیرا ڈال کر ذکر اﷲ کرنا تاکہ تمہاری موجودگی سے مجھے انس حاصل ہو اور تمہارے ذکر سے نکیرین کو جوابات دینے میں آسانی ہو۔
|
1717 -[25] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ فَلَا تَحْبِسُوهُ وَأَسْرِعُوا بِهِ إِلَى قَبْرِهِ وَلْيُقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِهِ فَاتِحَةُ الْبَقَرَةِ وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ بِخَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان. وَقَالَ: وَالصَّحِيح أَنه مَوْقُوف عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جب کوئی مرجائے تو اسے روک نہ رکھو اس کی قبر تک جلدی پہنچاؤ ۱؎ اس کے سر کے پاس سورۂ بقر کا شروع اور پیروں کے پاس بقر کا آخری رکوع پڑھو۲؎(بیہقی شعب الایمان)اور فرمایا صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث ان پرموقوف ہے۔ |
۱؎ یعنی بلاضرورت اس کے دفن میں دیر نہ لگاؤ کہ اس سے تمہیں بھی تکلیف ہے اورمیت کے پھولنے پھٹنے کا بھی اندیشہ۔اس حکم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سلاطین اسلامیہ علیٰحدہ ہیں،سلطان کا دفن خلیفہ کے مقرر ہونے کے بعد ہوگا اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دفن وفات سے تیسرے روز ہوا،یہ روکنا ضرورۃً ہے جیسے سلیمان علیہ السلام کا دفن وفات سے سال یا چھ مہینہ کے بعد ہوا تکمیل مسجد کے لیئے۔
۲؎ یعنی بعد دفن قبر کے سرہانے الٓمسے مُفْلِحُوْنَ تک اور قبر کی پائنتی اٰمَنَ الرَّسُوْلُ سے آخر تک پڑھوکیونکہ جیسے نزع کے وقت سورۂ یٰسین پڑھنے سے جانکنی آسان ہوتی ہے ایسے ہی بعد دفن یہ رکوع پڑھنے سے قبر کی مشکلات حل ہوتی ہیں۔مرقات میں ہے کہ امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں جب بھی قبرستان جاؤ تو قُلْ ہُوَاللہُ،فلق اور ناس اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر قبر والوں کو ثواب بخشو اور جب انصار میں کوئی فوت ہوتا تو وہ حضرات عرصہ تک قبر پر آتے جاتے رہتے۔فوائد زنجانی میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو قبرستان جائے اور وہاں"اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ"،"قُلْ ہُوَاللہُ" اور الحمد پڑھے پھر یہ کہے کہ الٰہی میں نے جو کچھ پڑھا اس کا ثواب ان قبر والے مؤمنوں کو بخشا تو وہ تمام مؤمن قیامت میں اس کی شفاعت کریں گے،نووی نے شرح مہذب میں فرمایا زیارت قبور کرنے والےکو چاہئے کہ کچھ قرآن پڑھے پھر ان کے لیئے دعا کرے،دوسری جگہ فرمایا کہ قبر کے پاس بیٹھ کر قرآن شریف پڑھنا بہت افضل ہے۔اس جگہ مرقاۃ نے ایصال ثواب کے بہت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع