الفصل الثالث
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

یہ حدیث امام احمد کی روایت کے مخالف ہے،ابو غالب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کے پیچھے نماز پڑھی آپ میت کے سینہ کے مقابل کھڑے ہوئے۔

۴؎ تاکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم میت اور پیچھے والے مقتدیوں کے درمیان آڑ بن جائیں اور میت کا پردہ رہےکیونکہ میت ڈولی میں نہ تھی لہذا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا اس جگہ کھڑاہونا خصوصی واقعہ ہے وہ بھی ایک عذر کی وجہ سے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1680 -[35] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: كَانَ ابْن حنيف وَقيس ابْن سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا فَقيل لَهما: إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَيْ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا جَنَازَة يَهُودِيّ. فَقَالَ: «أليست نفسا؟»

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابی لیلے سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت سہل ابن حنیف اورقیس ابن سعد قادسیہ میں بیٹھے ہوئے تھے۲؎ کہ ان پر جنازہ گزرا وہ دونوں صاحب کھڑے ہوگئے ان سے کہا گیا کہ یہ جنازہ زمیندار یعنی ذمی کافر کا ہے۳؎ تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک جنازہ گزرا آپ کھڑے ہوگئے عرض کیا گیا کہ یہ تویہودی کا جنازہ ہے فرمایا کیا یہ جان نہیں ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ مشہور تابعی بڑے عالم و زاہد ہیں،خلافت فاروقی میں شہادت پائی،فاروق اعظم سے چھ سال پہلے پیدا ہوئے،کوفہ میں قیام رہا۔ایک سوبیس انصارصحابہ سے ملاقات ہے۔

۲؎ قادسیہ کوفہ سے پندرہ میل فاصلہ پرمشہور مقام ہے جو زمانہ فاروقی میں فتح ہوا،بہت معرکۃ الآرا عزوہ ہواہے۔

۳؎ یعنی کافر کی روح کا کوئی احترام نہیں اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے تو آپ کافر کے جسم کی تعظیم کیوں کرتے ہیں اور اس کے لیے کیوں کھڑے ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں لفظ اھلِ ارض ذلت کا لفظ تھا یعنی زمین بونے جوتنے والا یا ہماری زمین میں کام کرنے والا اس وقت بہترین پیشہ جہاد تھا پھرتجارت،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلٰکِنَّہٗۤ اَخْلَدَ اِلَی الۡاَرْضِ

۴؎ یعنی یہ انسانی جان ہے جس کی موت سے عبرت پکڑنا چاہیئے ہمارا قیام اس کی تعظیم کے لیے نہیں بلکہ اظہار ہیبت کے لیےہے۔خیال رہے کہ میت کے لیے کھڑا ہونا منسوخ ہے،ان بزرگوں کو یا تو نسخ کی خبر نہ ہوئی یا بیان جواز کے لیے کھڑے ہوئے۔

1681 -[36]

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ لَهُ: إِنَّا هَكَذَا نضع يَا مُحَمَّدُ قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «خَالِفُوهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَبِشْرُ بْنُ رَافِعٍ الرَّاوِي لَيْسَ بِالْقَوِيّ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو نہ بیٹھتے حتی کہ میت قبر میں رکھ دی جاتی آپ کے سامنے ایک یہودی پادری آیا عرض کیا کہ اے محمد ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں فرمایا کہ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے لگے اور فرمایا کہ ان کی مخالفت کرو  ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے اور بشر ابن رافع راوی قوی نہیں ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن