30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ پیچھے چلنا افضل ہے جیسے جماعت کی نماز تنہا نماز سے افضل،لیکن بیان جواز اور لوگوں کو تنگی سے بچانے کے لیے وہ حضرات آگے چل رہے ہیں۔غرضکہ پیچھے چلنے کی بہت سی احادیث ہیں اور یہی عمل ہے۔
|
1670 -[25] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " من تبع جَنَازَة وحلمها ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو جنازے کے ساتھ گیا اور اسے تین بارکندھا دیا اس نے میت کا حق اداکردیا جو اس پر تھا ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یعنی میت کے ساتھ جانا حق اسلامی ہے یہ پورا پورا جب ادا ہوگا جب اسے کندھابھی دے،اس طرح کہ ایک بار چاروں کندھے،پھر کچھ آرام لے،پھر ترتیب وار چاروں کندھے،پھر کچھ آرام لے،پھر چاروں کندھے دے،اس سے زائد دے تو اس کی خوشی،تین سے کم نہ کرے۔
|
1671 -[26] وَقَدْ رَوَى فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَ جَنَازَةَ سَعْدِ ابْن معَاذ بَين العمودين |
اور شرح سنہ میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد ابن معاذ کا جنازہ دو لکڑیوں کے درمیان اٹھایا ۱؎ |
۱؎ یعنی جب زمین سے کندھے پر میت کو لیا تو اس طرح کہ جنازے کی آگے والی پٹی پر ایک آدمی تھااورپچھلی والی پر دو،امام شافعی کے ہاں اٹھاتے وقت یہی بہتر ہے،ہمارے ہاں اٹھاتے وقت بھی چار افضل اور لے جاتے وقت سب کے ہاں چار ہی افضل۔اس کی بہت سی روایات موجود ہیں۔وہاں جگہ میں تنگی ہوگی اس لیے ایسے کیا گیا،اب بھی دروازہ تنگ ہونے پر دو آدمی ہی جنازہ نکالتے ہیں۔
|
1672 -[27] وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَى نَاسًا رُكْبَانًا فَقَالَ: «أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ إِنَّ مَلَائِكَةَ اللَّهِ عَلَى أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ عَلَى ظُهُورِ الدَّوَابِّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ نَحْوَهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: وَقد روى عَن ثَوْبَان مَوْقُوفا |
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو آپ نے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا تو فرمایا کیا حیاءنہیں کرتے کہ اﷲ کے فرشتے پیدل ہیں اور تم گھوڑوں کی پشتوں پر ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد نے اس کی مثل،ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حضرت ثوبان سے موقوفًا بھی منقول ہے۲؎ |
۱؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنازہ کے ساتھ پیدل چلناچاہیئے،سواری گزشتہ حدیث میں معذور کے لیے تھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں،لنگڑا بیمارسوار ہوکر ہی جاسکتاہے۔خیال رہے کہ یہاں فرشتوں سے مراد وہ رحمت یا عذاب کے فرشتے ہیں جو مؤمن یا کافر میت کے ساتھ ہوتے ہیں ورنہ کاتبین اور حافظین فرشتے ہر انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ہر وقت عالم غیب پر رہتی ہے،نیز یہ کہ بزرگوں کا ادب چاہیئے،نظر آئیں یا نہ آئیں،دیکھو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع