30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جانتے ہیں۔خیال رہے کہ مسلمانوں کی گواہی سےمومنین صالحین کی گواہی مراد ہے جو قدرتی طور پر منہ سے نکلتی ہے جس میں نفسانی بغض اور کینہ کو دخل نہیں ہوتا ورنہ روافض صحابہ کو خوارج اہلِ بیت کو بعض بیدین علماء و صالحین کو برا کہتے ہیں وہ گواہی اس میں داخل نہیں۔خیال رہے کہ یہاں اَنْتُمْ میں صرف صحابہ سے خطاب نہیں بلکہ تاقیامت سارے نیک مؤمنوں سے جیسے"اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ"میں۔
۳؎ یہ جملہ پہلے جملہ کی شرح ہے کہ وہاں اَنْتُمْ سے مراد صرف صحابہ نہ تھے بلکہ سارے مؤمنین۔
|
1663 -[18] وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ» قُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: «وَثَلَاثَةٌ» . قُلْنَا وَاثْنَانِ؟ قَالَ: «وَاثْنَانِ» ثُمَّ لم نَسْأَلهُ عَن الْوَاحِد. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس مسلمان کی نیکی کی چار آدمی گواہی دیں گے اﷲ اسے جنت میں داخل کرے گا ہم نے کہا اور تین فرمایا اور تین بھی ہم نے کہا اور دو فرمایا اور دوبھی پھر ہم نے حضور سے ایک کے بارے میں نہ پوچھا ۱؎(بخاری) |
۱؎ یہ حدیث بہت امید افزاءہے کہ دو مسلمانوں کا بھی کسی کو اچھاکہنا اس کے جنتی ہونے کی علامت ہے۔رحمت والے نبی کی رحمت دیکھو کہ اس عدد میں شَر کا ذکرنہیں صرف خیر کا ذکر ہے،یعنی دو ایک آدمیوں کے برا کہنے سے جہنمی نہ کہاجائے گا ہاں ان کے اچھا کہنے سے جنتی کہاجائے گا۔مرقات نے فرمایا کہ شریعت میں گواہی کے نصاب دو ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَّ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"۔تو جیسے دو گواہیوں سے مقدمہ ثابت ہوجاتا ہے یونہی دو کی گواہی سےجنتی ہونا ثابت ہوگا۔یہاں شیخ نے فرمایا کہ جوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلتا ہے وہی رب کے ہاں ہوتاہے،صحابہ کی عرض پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم گواہوں کی تعداد میں کمی کرتے گئے تو وہاں بھی کمی ہوگئی۔
|
1664 -[19] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قدمُوا» رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مُردوں کو برا نہ کہو وہ اپنے گزشتہ کیے تک پہنچ گئے ۱؎(بخاری) |
۱؎ یعنی یہ نہ کہو کہ اب وہ جہنمی یا بُرے ہیں اسی لیے علماءفرماتے ہیں کہ کفارکوبھی ان کے مرنے کے بعد اب کافر نہیں کہہ سکتے،ممکن ہے کہ وہ موت کے وقت مؤمن ہوگئے ہوں سوائے ابوجہل ابولہب وغیرہ ان کافروں کے جن کا کفر نص میں آگیا، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کافر بیدین تھے بلکہ ضرورت کے وقت یہ کہنا واجب ہے۔محدثین راویان حدیث کے عیوب ان کے مرے بعدبیان کرتے ہیں حدیث کی تحقیق کے لیے۔خیال رہے کہ کسی کو برا کہنا اور ہے اورکسی کے متعلق بے اختیار منہ سے برائی نکل جانا اور،لہذا یہ حدیث"اَنْتُمْ شُہَدَاءُاﷲِ"کی حدیث کے خلاف نہیں۔
|
1665 -[20] وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يجمع بَين الرجلَيْن فِي قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ: «أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟» فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ: «أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا.رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد میں سے ایک کپڑے میں دو کو جمع فرماتے تھے ۱؎ پھر فرماتے ان میں زیادہ قرآن کسے یادہے جب ایک کی طرف اشارہ کیاجاتا تو اسی کو قبر میں آگے رکھتے اور فرماتے کہ میں ان لوگوں پر قیامت میں گواہ ہوں ۲؎ اور ان کو مع ان کے خونوں دفن کا حکم دیا اور ان پر نماز پڑھی نہ ان کو غسل دیا گیا ۳؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع