30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسجدکی خدمت بیکار نہیں جاتی۔صوفیاء کہتے ہیں کہ جو خانۂ دل کی صفائی چاہتا ہے وہ خانۂ خدا کی صفائی کیاکرے۔دوسرے یہ کہ اسلام میں کوئی حقیرنہیں،لوگوں نے غریب جان کر اس کی موت کی خبرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دی مگرغمخوار امت نے ا سکی قبر پر پہنچ کر اس کی خبر لی،امیرخسرو فرماتے ہیں۔شعر
کشتے کہ عشق دار دنگذاروت بزیں سال بجنازہ گر نہ آئی بمزار خواہی آمد
تیسرے یہ کہ بذاتِ خود ساری قبریں اندھیر ی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم خود نور ہیں،آپ کی نماز اور آپ کی دعا بھی نور ہے۔ جس کی قبر روشن ہوگی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ہوگی۔جو احتمال روشنیٔ قبر کا سبب ہیں جیسے مسجد میں روشنی کرنا وغیرہ وہ بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے ہیں۔چوتھے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعائیں اپنی امت کے لیے تاقیامت باقی ہیں ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد ساری قبریں اندھیری رہتی ہیں۔ا شعۃ اللمعات نے یہاں فرمایا کہ یہاں صلوٰۃ بمعنی دعا ہے اسی لیے یہاں نہ تکبیروں کا ذکر ہے نہ صفیں بنانے کا،بعض لوگ ان احادیث کی بنا پر کہتے ہیں کہ نماز جنازہ کئی بار ہوسکتی ہے مگر یہ غلط ہے،ورنہ تا قیامت ہمیشہ زائرین حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ پرپہنچ کر آپ کی نماز جنازہ پڑھا کرتے۔ولی کے نماز پڑھ لینے کے بعد اورکسی کو جنازہ پڑھنے کا حق نہیں دیکھو،حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر دو روز تک مسلسل نمازیں ہوتی رہیں مگر جب صدیق اکبر نے جو خلیفۃ المسلمین اور ولی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تھے آپ پر نماز پڑھ لی پھرکسی نے نہ پڑھی۔
|
1660 -[15] وَعَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ مَاتَ لَهُ ابْنٌ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ. قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: تَقُولُ: هُمْ أَرْبَعُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ فِيهِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت کریب ابن عباس کے مولےٰ سے وہ عبد اﷲ ابن عباس سے راوی کہ ان کا فرزند قدید یا عسفان میں وفات پا گیا ۱؎ تو آپ نے فرمایا کہ اےکریب دیکھو کتنے لوگ جمع ہو گئے فرماتے ہیں میں نکلا تو کچھ لوگ جمع ہو ہی گئے تھے میں نے آپ کو خبردی،فرمایا کیا تم کہہ سکتے ہو کہ چالیس ہوں گے میں نے کہا ہاں،فرمایا میت کو لاؤ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جو مرجائے اس کے جنازے پر چالیس آدمی کھڑے ہوں جو اﷲ کا کوئی شریک نہ بناتے ہوں اﷲ ان کی سفارش اس میت کے بارے میں ضرورقبول فرماتا ہے ۲؎(مسلم) |
۱؎ کریب تابعی ہیں،سیدنا ابن عباس کے آزاد کردہ غلام،قدید اورعسفان مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان مقامات ہیں۔
۲؎ مرقات میں ہے کہ جہاں چالیس مسلمان جمع ہوں ان میں کوئی ولی ضرور ہوتا ہے جس کی دعا قبول ہوتی ہے،اس کی برکت سے دوسروں کی بھی۔خیال رہے کہ یہ ذکر ولی تشریعی کا ہے،ولی تکوینی کی تعداد مقرر ہے کہ ہر زمانہ میں اتنے ابدال اتنے غوث اور ایک قطب عالم ہوں گے اورمسلمانوں سے مراد متقی مسلمان ہیں،ورنہ سینماؤں اور تماشہ گاہوں میں سینکڑوں فساق ہوتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع