30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1658 -[13] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ دُفِنَ لَيْلًا فَقَالَ: «مَتَى دُفِنَ هَذَا؟» قَالُوا: الْبَارِحَةَ. قَالَ: «أَفَلَا آذَنْتُمُونِي؟» قَالُوا: دَفَنَّاهُ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلفه فصلى عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پرگزرے جو رات میں دفن کیا گیا تھا فرمایا یہ کب دفن کیا گیا انہوں نے عرض کیا آج رات فرمایا تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی انہوں نے عرض کیا ہم نے اسے رات کے اندھیرے میں دفن کیا یہ ناپسند کیا کہ آپ کو جگائیں تو آپ کھڑے ہوئے ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں آپ نے اس پر نماز پڑھی ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ رات میں دفن جائز ہے۔دوسرے یہ کہ دفن میں جلدی کی جائے کہ اگر رات میں دفن ممکن ہوتو بلا وجہ دن ہونے کا انتظار نہ کیا جائے،دیکھو صحابہ کرام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے انتظار میں سویرے تک میت کو نہ رکھابلکہ خود اس پر نماز پڑھ کر دفن کردیا۔تیسرے یہ کہ قبر پر نماز جائز ہے جب غالب یہ ہو کہ ابھی میت محفوظ ہوگی،گلی پھٹی نہ ہوگی۔چوتھے یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سارے مسلمانوں کے ولی ہیں،رب فرماتاہے:"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِہِمْ"۔اگر ولی کے علاوہ اور لوگ نماز پڑھ لیں تو ولی کو دوبارہ جنازہ پڑھنے کا حق ہے،دیکھو صحابہ نے اس میت پر نماز پڑھ لی تھی مگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پڑھی،صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوکر۔جب اُمّ سعد کا انتقال ہواتھا تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تھے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ کے بعد ان کی قبر پر نماز پڑھی۔مرقات نے فرمایا کہ اس قبر والے کا مبارک نام طلحہ ابن براء ابن عمیر علوی ہے جو انصار کے حلیف ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنازہ میں یہ دعا پڑھی کہ یہ طلحہ ہیں تو ان سے راضی اور یہ تجھ سے راضی الخ۔
|
1659 -[14] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابٌّ فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ فَقَالُوا: مَاتَ. قَالَ: «أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي؟» قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ. فَقَالَ: «دلوني على قَبره» فدلوه فصلى عَلَيْهَا. قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللَّهَ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ» . وَلَفظه لمسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک حبشی عورت یا مرد مسجد میں جھاڑو دیتے تھے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گم پایا تو اس عورت یا مرد کے متعلق پوچھا لوگوں نے عرض کیا کہ وہ فوت ہوگیا فرمایا تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی ۱؎ راوی کہتے ہیں کہ شاید انہوں نے اس کا معاملہ حقیر جانا فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ لوگوں نے بتائی آپ نے اس قبر پر نماز پڑھی پھر فرمایا کہ یہ قبریں اپنی میتوں پر تاریکی سے بھریں ہیں اﷲ میری نماز کی برکت سے انہیں نورانی کردیتا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)لفظ مسلم کے ہیں۔ |
۱؎ سبحان اﷲ! اس شہنشاہ کی نظر کرم اپنے ہر گدا پر ہے۔شعر
کرم سب پر ہے کوئی ہو کہیں ہو تم ایسے رحمۃ اللعالمین ہو
مرقات نے فرمایا کہ جواب عرض کرنے والے ابوبکرصدیق تھے اور اس شخص کا نام اسود تھا رضی اللہ عنہم اجمعین۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع