دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

قائل ہیں مگر ان کی یہ دلیل کمزور ہے اس لیے کہ نماز غائبانہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے پڑھی کسی صحابی نے کبھی نہ پڑھی۔چنانچہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت جو صحابہ غزووں یا مکہ مکرمہ وغیرہ میں تھے انہوں نےحضورصلی اللہ علیہ وسلم پر نماز غائبانہ نہ پڑھی،نیز حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےبھی یہی نماز غائبانہ پڑھی بارہا صحابہ کی شہادتوں یا وفات کی خبریں آتی تھیں آپ نماز نہ پڑھتے تھے۔جن روایات میں ہے کہ آپ نے معاویہ ابن معاویہ مزنی،زید ابن حارثہ،جعفر ابن ابی طالب پر یہ غزوہ موتے میں شہید ہوئے تھے نماز غائبانہ پڑھی ہے ان کی اسنادوں میں محدثین کو کلام ہے کیونکہ ان اسنادوں میں علاء ابن زید یا بقیہ ابن ولید وغیرہم راوی ہیں جو بالاتفاق ضعیف ہیں اور اگر یہ احادیث صحیح بھی ہوں تو ان نمازوں کی وجہ یہ ہے کہ جبریل امین نے ان میتوں کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لاکر حاضر کردیا۔چنانچہ حضرت ابن عباس کے الفاظ یہ ہیں"کُشِفَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ النِّجَاشِیْ حَتّٰی رَاٰہُ وَصَلَّی عَلَیْہِ"لہذا یہ نماز حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت میں سے ہے کیونکہ میت کا امام کے آگے ہونا کافی ہے مقتدی دیکھیں یا نہ دیکھیں،ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم تو ہرصحابی کا جنازہ پڑھاتے تھے حتی کہ جو رات میں دفن کردیئے جاتے ان کی قبر پر جاکر جنازہ پڑھاتے اور فرماتے کہ مجھے ہر ایک کی موت کی خبر دیاکرو،میری نماز ان کے لیے رحمت ہے مگر سوائے اس کے اورکسی غائب صحابی پر نماز غائبانہ نہ پڑھی،لہذا اس حدیث سے نماز غائبانہ کا جواز ثابت کرنا بہت کمزور ہے۔مذہب حنفی نہایت قوی ہے کہ جنازے کی نمازحاضرمیت پرہوسکتی ہے نہ کہ غائب پر۔

1653 -[8]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يكبرها. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابی لیلی سے فرماتے ہیں کہ زید ابن ارقم ہمارے جنازوں میں چارتکبیریں کہتے تھے انہوں نے ایک جنازہ پر پانچ کہیں تو ہم نے ان سے پوچھا تو فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ کہتے تھے ۱؎(مسلم)

۱؎ چاروں اماموں کا اس پر اتفاق ہے کہ نماز جنازہ میں چارتکبیریں ہیں جن پر بیشمار احادیث صحیحہ وارد ہیں۔اس حدیث سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ صحابہ کا عمل چارتکبیروں پر ہی تھا کیونکہ خود زید ابن ارقم چار ہی کہتے تھے اورجس نماز میں انہوں نے پانچ۵ کہیں تو صحابہ نے ان سے پوچھ گچھ شروع کردی۔شارحین فرماتے ہیں کہ حضرت زید ابن ارقم بھول کر پانچ کہہ گئے تھے،جب صحابہ نے ان پر اعتراض کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز درست ہوگئی کیونکہ پانچ تکبیروں پربھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل رہا ہے اس صورت میں حدیث بالکل واضح ہے۔ہم بھی کہتے ہیں کہ اگرکوئی بھولے سے پانچ تکبیریں کہہ جائے تو نماز فاسد نہ ہوگی۔خیال رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ چھ تکبیریں بھی ثابت ہیں مگر وہ سب منسوخ ہیں۔چنانچہ مؤطا امام محمد میں ایک حدیث ہے جس میں ہے کہ عہد فِاروقی تک صحابہ نماز جنازہ میں کبھی تکبیریں چار کہتے،کبھی پانچ،کبھی چھ، حضرت عمرفاروق نے سب کو جمع کرکے فرمایا کہ اگر تم میں ہی اختلاف رہے گا تو قیامت تک سارے مسلمانوں میں اختلاف رہے گا،تحقیق کرو کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے آخری جنازوں میں تکبیریں کتنی کہیں تحقیق سے ثابت ہوا کہ آپ نے چار تکبیریں کہیں اسی پرصحابہ کرام کا اجماع ہوا۔چنانچہ حضرت عمر نے صدیق اکبر پر،حضرت ابن عمر نے عمرفاروق پر،حضرت حسن

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن