دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

میں جان پڑچکی ہوتی ہے اور بعدموت مردہ بولتابھی ہے،سنتا بھی ہے جیساکہ باب عذاب قبر میں گزر چکا کہ مردہ چلنے والوں کے جوتوں کی آہٹ سنتاہے۔احمد،طبرانی،ابن ابی دنیا،معروزی،اور ابن مندہ نے ابو سعیدخدری سے روایت کی کہ میت اپنے غسل دینے والے،اٹھانے والے،کفن دینے والے اور قبر میں اتارنے والے سب کو پہنچانتا ہے۔(مرقات)

۲؎ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ مردے کی یہ گفتگو زبان قال سے آواز کے ساتھ ہی ہوتی ہے جسے جانور فرشتہ کنکر،پتھر سب سنتے ہیں انسان کو اس لیے نہ سنائی گئی کہ اولًا تو اس میں اس آواز کی برداشت کی طاقت نہیں۔دوسرے اس پر ایمان بالغیب لازم ہے اگر وہ آواز سن لے تو ایمان بالغیب نہ رہے۔

1648 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ»

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ ۱؎ جو اس کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے حتی کہ رکھ دیا جائے۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اولًا میت کے لیے کھڑے ہوجانے کا حکم تھا یا تو میت کی تعظیم کے لیے یا ساتھ والے فرشتوں کی یا موت کی گھبراہٹ کے اظہار کے لیے،لیکن یہ حکم بعد میں منسوخ ہوگیا اس کی ناسخ حدیثیں آگے آرہی ہیں۔اکثر علماء فرماتے ہیں کہ جو میت کے ساتھ جانا نہ چاہے اسے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔(مرقاۃ)

۲؎ لوگوں کی گردنوں سے زمین پر تاکہ اگر اس کی امداد کی ضرورت پڑے تو یہ بآسانی امداد کرسکے،یہ حکم اب بھی باقی ہے کہ میت کو کندھوں سے اتارنے سے پہلے بیٹھ جانا مکروہ ہے اور اگر یہ معنی ہیں کہ قبر میں رکھ دیاجائے تو یہ حدیث منسوخ ہے جس کا ناسخ آگے آرہا ہے۔شروع اسلام میں دفن سے پہلے بیٹھنا مکروہ تھا اب جائز ہے۔

1649 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَرَّتْ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا يَهُودِيَّةٌ فَقَالَ: «إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَة فَقومُوا»

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں ایک جنازہ گزرا تو اس کے لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہوگئے ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو یہودیہ تھی فرمایا موت وحشت ناک ہے تو جب تم جنازہ دیکھاکرو تو کھڑے ہوجایاکرو ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ گھبراہٹ اورخوف ظاہر کرنے کے لیے نہ کہ کافر میت کی تعظیم کے لیے اس وقت کھڑا ہونا خوف کی علامت ہے اور بیٹھارہنا سختی دل اور غفلت کی نشانی مگر یہ حکم منسوخ ہے جیساکہ آگے آرہا ہے۔

1650 -[5]

وَعَن عَليّ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: رَأَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا يَعْنِي فِي الْجَنَازَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ وَأَبِي دَاوُدَ: قَامَ فِي الْجَنَازَةِ ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہوتے رہے پھر آپ بیٹھنے لگےتو ہم بھی بیٹھنے لگے یعنی جنازے میں ۱؎ (مسلم)اور مالک اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ اولًا جنازے میں کھڑے ہوتے تھے پھر بعد میں بیٹھنے لگے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن