30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۶؎ تاکہ میری رسوائی نہ ہو اور مجھے جہنم میں نہ جانا پڑے جس کا عذاب یہاں سےسخت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ کافر قیامت اور وہاں کے حالات کوجانتاہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو نبوت کی خبر ہی نہ پہنچی ان کے لیے حساب قبر نہیں۔
۲۷؎ اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن کے مرنے اور اس کے اچھے خاتمہ کو سارے فرشتے دیکھتے اور جانتے ہیں خواہ آسمانی فرشتے ہوں یا درمیانی،لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو سارے مخلوق میں بڑے عالم ہیں بھی،ہرشخص کی موت اور اس کے خاتمہ سے خبردار ہیں اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت میں مؤمنوں کے ایمان بلکہ ان کے مراتب ایمان کی بھی گواہی دیں گے اور مؤمنوں کی شفاعت کریں گے،اگر آپ کو لوگوں کے ایمان و کفر کی ہی خبر نہ ہو تو یہ کام کیسے کرسکتے ہیں۔خیال رہے کہ ہر روح کے لیے آسمان سے جانے کا دروازہ مقرر ہے جس کی فرشتوں کوبھی خبر ہے،غازیوں کے لیے اور دروازہ ہے،حاجیوں کے لیے اور،نمازیوں کے لیے اور،صحابیوں کے لیے اور مگر پھربھی ہر دروازہ کے فرشتوں کا یہ دعاکرنا اظہار اشتیاق کے لیے ہے نہ کہ بے خبری کی وجہ سے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداﷲ ابن ابی کو اس کے مرے بعد اپنی قمیص پہنائی،نماز جنازہ پڑھائی اگرچہ جانتے تھے کہ یہ جہنمی ہے۔
۲۸؎ یعنی کھلوانے پرکھولے نہیں جاتےجیساکہ اوپرگزر چکا،ورنہ آسمان کے دروازے ہر وقت بندہی رہتے ہیں ضرورۃً کھلتے ہیں۔خیال رہے کہ آسمان میں بے شمار دروازے ہیں:بعض سے رزق اترتے ہیں،بعض سے عذاب،بعض سے فرشتے،بعض سے مرنے والوں کی روحیں اندر جاتی ہیں،ایک دروازہ وہ بھی ہے جو خاص حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے معراج میں جانے کے لیے تھا وہ پہلے نہ کسی کے لیے کھلا تھا،نہ پھر بعد میں کسی کے لئے کھلے،اسی لیے حدیث معراج میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جبریل امین گئے دروازہ کھلوایا تو دربان نے پوچھا کہ تم کون ہو تمہارے ساتھ کون ہے اگر یہ بھی کوئی عام دروازہ ہوتا تو اس سوال کے کیا معنی تھے۔
|
1631 -[16] وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنْ لَقِيتَ فُلَانًا فَاقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ. فَقَالَ: غَفَرَ اللَّهُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: بَلَى. قَالَتْ: فَهُوَ ذَاكَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ والنشور |
روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن کعب سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں کہ جب حضرت کعب کو موت آئی تو ان کے پاس ام بشر بنت ابن معرور آئیں۲؎ بولیں اے ابوعبدالرحمان اگر تم فلاں سے ملو تو انہیں میرا سلام پہنچانا۳؎ وہ بولے ام بشر اﷲ تمہیں بخشے ہم تو ان چیزوں سے زیادہ مشغول ہوں گے وہ بولی اے ابو عبدالرحمان کیا تم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ مسلمانوں کی روحیں سبز پرندوں میں جنت کے درخت سے لٹکائی جاتی ہیں فرمایا ہاں بولیں یہ وہی ہے۴؎(ابن ماجہ،بیہقی،کتاب البعث والنشور) |
۱؎ عبدالرحمان انصاری ہیں،تابعی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پاک میں پیدا ہوئے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کرسکے،آپ کے والد کعب ابن مالک انصاری بدری وہی مشہور صحابی ہیں جن کی توبہ کا واقعہ سورۂ توبہ میں مذکور ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع