30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ ظاہر یہ ہے کہ جسم کے سارے اجزاء میں روح داخل ہوتی ہے اور مردہ زندہ ہوتا ہے۔بعض لوگوں نے کہاکہ صرف سینہ تک جاتی ہے مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں لیکن یہ زندگی ہمیں محسوس نہیں ہوتی ہے۔اگر مردہ ہمارے سامنے پڑا رہے تو اس پر یہ ساری واردات گزر جاتی ہے ہمیں خبرنہیں ہوتی۔
۱۰؎ اس کی مکمل شرح "باب عذاب قبر"میں گزر چکی،بعض روایتوں میں مَنْ نَبِیُّكَبھی ہے یہاں مَا ھٰذَا الرَّجُلُ آیا مگر کوئی حرج نہیں،کسی سے وہ سوال ہوتا ہے کسی سے یہ۔مَا سے مرادحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صفات ہیں یعنی ان صاحب کے صفات بتا۔
۱۱؎ ظاہر یہ ہے کہ پکارنے والا کوئی فرشتہ ہوتا ہے جو رب کا کلام نقل کرتا ہے۔
۱۲؎ یعنی یہ مؤمن کامیابی کے بعد جنت میں نہیں پہنچتا،بلکہ جنت کو دیکھتا ہے،وہاں کی خوشبو میں ٹھنڈی ہوائیں محسوس کرتاہے مگر شہداء کی روحیں جنت میں پہنچ جاتی ہیں،بعدقیامت وہاں جسموں کا داخلہ ہوگا۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ قبر کی فراخی بصارت کی حد تک ہوگی اور وہاں بصارت بقدر بصیرت ہوگی یعنی وہاں بصارتیں مختلف ہوں گی لہذا قبروں کی فراخیاں بھی مختلف ہوں گی۔
۱۳؎ یوم سے مراد وقت ہے یعنی تیری تمام غم و تکلیف کا خاتمہ ہوچکا اب وہ وقت آگیا کہ تجھے ہرطرف سے خوشی ہی خوشی رہے،اسی وقت کا تجھ سے علماء،مشائخ،قرآن کریم اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ کیا تھا جس وعدہ کی بناء پر تو نے ایمان وتقویٰ اختیارکیاتھا۔خیال رہے کہ اس وقت کی کبھی انتہا نہیں ابدالآباد تک رہے گی۔
۱۴؎ یعنی تو کون حبیب ہے کہ غریب کو عجیب بشارت دیتا ہے اور میرا ہاں مونس ہے جہاں دنیا والے مجھے چھوڑ گئے،تیری تو صورت ہی ایسی پیاری ہے جس کو دیکھ کرغم غلط ہوتے ہیں،خوشی نصیب ہوتی ہے۔خیر سے مراد خوشی یا بشارت ہے۔
۱۵؎ عمل دنیا میں ایک حالت وکیفیت ہے مگر برزخ ومحشر میں جسمانی شکل میں نمودار ہوں گے۔اب بھی خواب میں اعمال جسمانی شکل میں نظر آتے ہیں۔یوسف علیہ السلام نے خشک بالیوں،دبلی گایوں کی تعبیرقحط سالی سے دی،تربالیوں کی تعبیر فراخ سالی سے،اسی طرح خواب میں علم وعمل سفیدوجاری پانی کی شکل میں دیکھے جاتے ہیں۔
۱۶؎ مَالِیْ میں تین احتمال ہیں:ایک یہ کہ اس سے مراد ہو میرا والی۔دوسرے یہ کہ اس سے مراد ہو میرا انجام مال نتیجہ کو کہتے ہیں۔تیسرے یہ کہ مامو صولہ ہو اور لِیْ صلہ،یعنی وہ ثواب جو میرے لیے۔اھل سے مرادجنتی بیبیاں ہیں یعنی قیامت جلدقائم کر تاکہ اپنے ثواب اور جنت کے گھر بار میں واپس جاؤں،چونکہ انسان جنت ہی سے آیا ہے اس لیے وہاں جانے کو لوٹنا فرمایا گیا،اس لوٹنے سےبعض لوگ سمجھے کہ دنیا میں اعمال کے لیے آنا مراد ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ قیامت قائم ہونے پر نہ عمل کا وقت ہوگا نہ ان گھروں میں آنا۔
۱۷؎ ظاہر یہ ہے کہ ان فرشتوں کے اپنے چہرے کالے نہیں ہوتے،بلکہ یہ کافر کے کفر اور بدعملی کا رنگ ہے جو ان کے چہروں میں نظر آتاہے جیسے کالے آدمی کی سیاہی آئینہ میں۔اور ہوسکتا ہے کہ ان کا اپنا رنگ ہو کیونکہ وہ غضب الٰہی کے مظہر ہیں مگر یہ سیاہی ان فرشتوں کی نورانیت کے خلاف نہیں،دیکھو آنکھوں کی پتلی کالی ہے مگر نور ہے۔ٹاٹ سے دوزخ کا سخت اور کھرکھرا لباس مراد ہے جیسا پہلے کہاجاچکا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع