30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1630 -[15] وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَة رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حوله كَأَن على رؤوسنا الطَّيْرَ وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ من السَّمَاء مَلَائِكَة بِيضُ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ الله ورضوان " قَالَ: «فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنَ فِي السِّقَاءِ فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ» قَالَ: " فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ - يَعْنِي بِهَا - عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذِه الرّوح الطّيب فَيَقُولُونَ: فلَان بن فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى ينْتَهوا بهَا إِلَى سَمَاء الدُّنْيَا فيستفتحون لَهُ فَيفتح لَهُ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى ينتهى بهَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ - فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أخرجهم تَارَة أُخْرَى قَالَ: " فتعاد روحه فيأتيه ملكان فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولُونَ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ الله فَيَقُولُونَ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُول: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولَانِ لَهُ: وَمَا عِلْمُكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاء أَن قد صدق فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ " قَالَ: «فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ» قَالَ: " وَيَأْتِيهِ رجل حسن الْوَجْه حسن الثِّيَاب طيب الرّيح فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ فَيَقُولُ لَهُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْه يَجِيء بِالْخَيْرِ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ فَيَقُولُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي ". قَالَ: " وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ مَعَهُمُ الْمُسُوحُ فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ " قَالَ: " فَتُفَرَّقُ فِي جسده فينتزعها كَمَا ينتزع السفود من الصُّوف المبلول فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ وَيخرج مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرّوح الْخَبيث؟ فَيَقُولُونَ: فلَان بن فُلَانٍ - بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا - حَتَّى يَنْتَهِي بهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ فَلَا يُفْتَحُ لَهُ " ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سم الْخياط)فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّين فِي الأَرْض السُّفْلى فتطرح روحه طرحاثُمَّ قَرَأَ: (وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرّيح فِي مَكَان سحيق)فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ: فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَن كذب عَبدِي فأفرشوا لَهُ مِنَ النَّارِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ فَيَأْتِيهِ حَرُّهَا وَسَمُومُهَا وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ فَيَقُولُ أَبْشِرْ بِالَّذِي يسوؤك هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ فَيَقُولُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ وَفِي رِوَايَة نَحوه وَزَاد فِيهِ:إِذَا خَرَجَ رُوحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ مِنْ قِبَلِهِمْ. وَتُنْزَعُ نَفْسُهُ يَعْنِي الْكَافِرَ مَعَ الْعُرُوقِ فَيَلْعَنُهُ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ لَا يُعْرِجَ رُوحَهُ مِنْ قبلهم ". رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت براءابن عازب سے فرماتےہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں گئے قبر پر پہنچے قبر ابھی تیار نہ تھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے ہم آپ کے آس پاس ایسے بیٹھ گئے کہ ہمارے سروں پر پرندے ہیں ۱؎ حضور کے ہاتھ میں چھڑی تھی جس سے آپ زمین کریدنے لگے۲؎ پھر اپنا سر اٹھایا دو یا تین بارفرمایا کہ عذاب قبر سے اﷲ کی پناہ مانگو پھر فرمایا کہ بندہ مؤمن جب دنیا سے روانہ ہوکر آخرت کی طرف جانے لگتا ہے تو اس پر آسمان سے سفید چہرے والے فرشتے اترتے ہیں گویا ان کے چہرے سورج ہیں۳؎ جن کے ساتھ جنت کے کفنوں سے کفن اور وہاں کی خوشبو ہوتی ہے حتی کہ میت کی تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت علیہ السلام آتے ہیں اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتے ہیں۴؎ اے پاک روح اﷲ کی بخشش اور رضا کی طرف چل تو وہ نکلتی ہے ایسی بہتی ہوئی جیسے مشک سے قطرہ ۵؎ ملک الموت اسے لے لیتے ہیں جب لیتے ہیں تو فرشتے ان کے ہاتھ میں پل بھرنہیں چھوڑتے حتی کہ اسے لے لیتے ہیں اس کو کفن اور خوشبو میں ڈال دیتے ہیں اس میت سے ایسی نفیس خوشبونکلتی ہے جیسے روئے زمین پر بہترین مشک سے۶؎ فرمایا اسے لےکر چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی کسی جماعت پرنہیں گزرتے مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ کیا ہی نفیس خوشبو ہے یہ کہتے ہیں کہ یہ فلاں ابن فلاں ہے اس کا وہ اعلیٰ نام لےکر جو زمین میں لیا جاتاتھا حتی کہ اسے لےکر دنیاوی آسمان پرپہنچتے ہیں تو اس کے لیے کھلواتے ہیں تو کھول دیاجاتاہے اسے ہر آسمان کے فرشتے دوسرے آسمان پرپہنچانے جاتے ہیں حتی کہ ساتویں آسماں تک پہنچادیتے ہیں ۷؎ رب فرماتا ہے کہ میرے بندے کی کتاب علیین میں لکھو۸؎ اور اسے زمین کی طرف کردو کیونکہ میں نے انہیں زمین سے ہی پیدا کیا وہاں ہی لوٹاؤں گا وہاں ہی سے دوبارہ نکالوں گا فرمایا اس کی روح جسم میں واپس کی جاتی ہے ۹؎ پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ رب تیرا کون وہ کہتاہے رب میرا اﷲ ہے وہ کہتے ہیں دین تیرا کیا وہ کہتا ہے دین میرا اسلام کہتے ہیں یہ صاحب کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے وہ کہتاہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں وہ کہتے ہیں تجھے کیسے معلوم ہوا یہ کہتا ہے میں نے اﷲ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اس کی تصدیق کی ۱۰؎ تو آسمان سے پکارنے والاپکارتاہے کہ میرا بندہ سچا ہے ۱۱؎ اس کے لیے جنت کا فرش بچھاؤ جنتی لباس پہناؤ اور جنت کی طرف دروازہ کھول دو فرمایا تب اس تک جنت کی راحت و خوشبو آتی ہے،تاحدنگاہ اس کی قبر میں فراخی کی جاتی ہے۱۲؎ فرمایا کہ اس کے پاس ایک خوبصورت اچھے کپڑوں اچھی خوشبو والاشخص آتا ہے کہتاہے اس سے خوش ہو جو تجھے مسرور کرے گی یہ تیرا وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۱۳؎ یہ کہتا ہے تو کون ہے تیرا چہرہ بھلائی لاتاہے۱۴؎ وہ کہتاہے میں تیرا نیک عمل ہوں۱۵؎ تب بندہ کہتا ہے یارب قیامت قائم کر یا رب قیامت قائم کر تاکہ میں اپنے گھر بار اور مال میں پہنچوں۱۶؎ فرمایا کہ بندہ کافر جب دنیا کے خاتمے اور آخرت کی آمد میں ہوتا ہے توا س کی طرف آسمان سے سیاہ چہرے والے فرشتے اترتے ہیں جن کے ساتھ ٹاٹ ہوتے ہیں۱۷؎ اس کی حدنگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں،پھر ملک الموت آتےہیں اس کے سر کے پاس بیٹھتے ہیں کہتے ہیں اے خبیث جان رب کی ناراضی کی طرف نکل فرمایا کہ جان اس کے جسم میں چھپتی پھرتی ہے وہ اسے ایسے کھینچتے ہیں جیسے گرم سیخ بھیگی اون سے کھینچی جاتی ہے ۱۸؎ پھر اسے لے لیتےہیں جب لیتے ہیں تو دوسرے فرشتے وہ جان ملک الموت کے ہاتھ میں پلک جھپکتے تک نہیں چھوڑتےحتی کہ اسے ان ٹاٹوں میں ڈال لیتے ہیں اور اس سے روئے زمین کے بدترین مردار کی سی بدبو نکلتی ہے اسے لےکر چڑھ جاتے ہیں ۱۹؎ فرشتوں کی جس جماعت پربھی گزرتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کون خبیث جان ہے وہ اس کے دنیاوی بدترین ناموں سے جس سے موسوم کیاجاتا تھا نام لےکر کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کا بیٹا یہاں تک کہ اسے لےکر آسمان دنیا تک آتے ہیں۲۰؎ کھلوایاجاتا ہے تو اس کے لیے کھولانہیں جاتا پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی نہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھلیں اور نہ وہ جنت میں جائیں حتی کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے ۲۱؎ پھر رب تعالٰی فرماتا ہے کہ اس کی کتاب نچلی زمین کپے سجّین میں لکھو پھر ان کی جاں پٹخ دی جاتی ہے پھر حضور نے یہ تلاوت کی کہ جس نے اﷲ سے شرک کیا گویا وہ آسمان سے گر گیا جسے پرندے اچکتے ہیں یا اسے دور جگہ میں ہوا پھینْکتی ہے۲۲؎ پھر روح جسم میں لوٹائی جاتی ہے اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں کہتے ہیں تیرا رب کون ہے وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا پھر کہتے ہیں تیرا دین کیا ہے وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا پھر کہتے ہیں یہ کون صاحب ہیں جو تم میں بھیجے گئے وہ کہتے ہیں ہائے ہائے میں نہیں جانتا ۲۳؎ تب آسمان سے پکارنے والا پکارتا ہے یہ جھوٹا ہے۲۴؎ اس کے لیے آگ کا بستربچھاؤ اور آگ کی طرف دروازہ کھولو تب اس تک دوزخ کی گرمی اور وہاں کی لو آتی ہے اس پر قبر اتنی تنگ کی جاتی ہے کہ ا س کی پسلیاں اِدھر اُدھر ہوجاتی ہیں۲۵؎ اس کے پاس ایک بدشکل برے لباس والا بدبو دار آدمی آتاہےکہتا ہے اس کی خبرلے جو تجھے غمگین کرے گی یہی وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ تھا مردہ کہتا ہے کہ تو ہے کون کہ تیرا چہرہ شر(ڈر)لاتا ہے وہ کہتا ہے میں تیرے برے عمل ہوں تب یہ کہتا ہے الٰہی قیامت نہ قائم کر ۲۶؎ اور ایک روایت میں اس کی مثل ہے اس میں اتنی زیادتی ہے کہ جب مؤمن کی جان نکلتی ہے تو آسمان و زمین کے درمیان کے سارے فرشتے اس پر دعا کرتے ہیں اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں ہر درازے والے یہی دعاکرتے ہیں کہ اس کی روح ان کی طرف سے چڑھے۲۷؎ اور کافر کی جان اس کی رگوں کے ساتھ نکالی جاتی ہے اس پر آسمان زمین کے درمیان والے فرشتے اور آسمان کے سارے فرشتے لعنت کرتے ہیں آسمان کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۲۸؎ ہر دروازے والے یہی دعا کرتے ہیں کہ الٰہی اس کی روح ان کی طرف سے نہ چڑھے۔(احمد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع