30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ غالبًا یہ دو فرشتے اس کے اعمال لکھنے والے ہیں،روح ان کے ہاتھوں میں ہوتی ہے،باقی کچھ اور فرشتے ان کے ساتھ ہوتے ہیں لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جہاں بہت سے فرشتوں کے لے جانے کا ذکرہے۔
۲؎ یعنی اس روح کی خوشبو کو مشک اعلیٰ سےتشبیہ دی جو ان فرشتوں کو اور باقی دوسرے فرشتوں کومحسوس ہوتی ہے،کبھی حاضرین انسانوں نےبھی اس کا احساس کیا کہ جان نکلنے پر اعلیٰ درجے کی مہک آئی۔اس سےمعلوم ہوا کہ مؤمن کی روح مہکتی ہے،کبھی اچانک غیبی خوشبومحسوس ہوتی ہے،بزرگ فرماتے ہیں کہ اس وقت کسی پاک روح کا وہاں سے گزرہوتا ہے ایسےموقعہ پر درود شریف پڑھنا چاہیے،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر کے پاس باب جبریل سے متصل بہت دفعہ خوشبو محسوس کی گئی۔
۳؎ غیر نبی پر درود مستقلًا پڑھنا ہمارے لیے منع ہے،یعنی ہم کسی کو صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہہ سکتے۔فرشتوں کا یہ درود اس روح پر پڑھناان کی خصوصیت ہے جیسے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم صدقہ لانے والے کو فرماتے"اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی فُلَانٍ" ہمارے احکام اور ہیں ان کے احکام کچھ اور۔
۴؎ یعنی قیامت تک اسے برزخ میں رکھو،برزخ موت اورقیامت کے درمیانی وقت کانام ہے،اس وقت میں روحیں مختلف جگہ رہتی ہیں کوئی روح جنت میں اعلیٰ علیین میں،کوئی چاہ زمزم میں،کوئی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قرب حضوری میں،یہاں کی یہ عبارت ان سب کو شامل ہے مگر روح جہاں بھی ہوجسم اورقبرسےتعلق ضرور رکھتی ہے اسی لیے قبر پر جاکر سلام،فاتحہ پڑھتے ہیں۔
۵؎ یعنی حضرت ابوہریرہ نے اپنی چادر ناک پر لگاکر فرمایا کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے یوں چادرکی تھی۔مرقات نے فرمایا کہ اس وقت سرکار کی ناک نے کسی کافر روح کی بدبومحسوس فرمائی تھی آپ کا یہ عمل اس بنا پر تھا۔کبھی بزرگوں کے حواس دور کی چیزمحسو س کرلیتے ہیں،یعقوب علیہ السلام نے کنعان بیٹھے ہوئے مصر سے روانہ ہونے والی قمیض یوسفی کی خوشبو محسوس کرکے فرمایا:"اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ"۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ عمل شریف بطورتمثیل کیا یعنی اگر تم وہ بدبو پاؤ تو ایسے ناک ڈھک لو مگر پہلی توجیہ قوی ہے۔
|
1629 -[14] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حُضِرَ الْمُؤْمِنُ أَتَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيًّا عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللَّهِ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتَّى إِنَّهُ لَيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَأْتُوا بِهِ أَبْوَابَ السَّمَاءِ فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحَ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الْأَرْضِ فَيَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ يَقْدُمُ عَلَيْهِ فَيَسْأَلُونَهُ: مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: قَدْ مَاتَ أَمَا أَتَاكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: قَدْ ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ. وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ: أَخْرِجِي ساخطة مسخوطا عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَتَخْرُجُ كأنتن ريح جيفة حَتَّى يأْتونَ بِهِ بَابِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هَذِهِ الرِّيحَ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مؤمن کو موت آتی ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشم لےکر آتے ہیں ۱؎ کہتے ہیں نکل تو راضی،تجھ سے رب راضی اﷲ کی طرف سے راحت،روحانی رزق اور راضی رب کی طرف چل تو وہ بہترین مشک کی خوشبو کی طرح نکلتی ہے۲؎ حتی کہ بعض فرشتے بعض کو وہ روح دیتے ہیں اسے آسمان کے دروازوں تک لاتے ہیں۳؎ آسمان والے کہتے ہیں یہ کیا اچھی خوشبو ہے جو زمین سے تمہیں آئی پھر اسےمسلمانوں کی روحوں کے پاس لاتے ہیں مؤمنین اس کی وجہ سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جیسےتم میں سےکوئی گمشدہ آدمی کے آجانے سے خوش ہوئے۴؎ اس سے پوچھتے ہیں کہ فلاں کیاکرتا ہے فلاں کیاکرتاہے پھر کہتے ہیں اسے چھوڑو یہ دنیا کے غم میں تھا ۵؎ یہ کہتاہے کہ وہ مرگیا کیاتمہارے پاس نہ آیا وہ کہتے ہیں کہ اسے ام ہاویہ میں پہنچادیا گیا ہے ۶؎ اور کافر کی موت جب آتی ہے تو اس کے پاس عذاب کے فرشتے ٹاٹ لےکر آتے ہیں ۷؎ کہتے ہیں نکل تو رب سے ناراض تجھ پر رب ناراض اﷲ کے عذاب کی طرف چل تو وہ مردار کی سخت بدبو کی طرح نکلتی ہے حتی کہ اسے زمین کے دروازے تک لاتے ہیں۸؎ تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسی سخت بدبوہے یہاں تک کہ اسے کفار کی روحوں میں پہنچا دیتے ہیں ۹؎(احمد،نسائی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع