دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

ایک پائی میراث نہ ملی،اٹھارہ سال کی عمرشریف میں بیوگی کی چادر اوڑھ لی اور۵۳ سال کی عمر شریف یونہی گزاری رضی اللہ عنہاوعنھن۔

۳؎ یہ تو عام مؤمنوں کا حال ہے،خواص کو جان کنی کے وقت جمال مصطفی دکھا دیا جاتا ہے،ان کی اس وقت کی خوشی بیان سے باہر ہے،پھر انہیں جانکنی قطعًا محسوس نہیں ہوتی،روح خودبخودشوق میں جسم سے نکل آتی ہے جیساکہ بارہا دیکھا گیا۔

۴؎ چنانچہ کافرکو موت کے وقت میں تین مصیبتیں جمع ہوجاتی ہیں:دنیا چھوٹنے کا غم،آئندہ مصیبتوں کاخوف،جان نکلنے کی شدت۔غرضکہ مؤمن کی موت عید ہے اور کافر کی موت مصیبت اسی لیئے اولیاءاﷲ کی موت کو عرس کہا جاتا ہے یعنی شادی۔

1602 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ: «وَالْمَوْتَ قَبْلَ لِقَاء الله»

اورحضرت عائشہ کی روایت میں ہے کہ موت اﷲ کے ملنے سے پہلے ہے ۱؎

۱؎ یعنی موت پہلےہے،رب سے ملنا بعدمیں لہذا اس وقت کی پسند و ناپسند ملاقات رب سے پہلے ہی کی پسندیدگی و ناپسندیدگی ہے۔

1603 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: «مُسْتَرِيحٌ أَوْ مُسْتَرَاحٌ مِنْهُ» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا المستريح والمستراح مِنْهُ؟ فَقَالَ: «الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يستريح مِنْهُ الْعباد والبلاد وَالشَّجر وَالدَّوَاب»

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے وہ بیان کیاکرتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پرایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا کہ یا اس سے راحت حاصل کی گئی ۱؎ یا راحت پاگیا لوگ بولے یارسول اﷲ راحت پانے والے اور اس سے چھوٹنے والے سے کیا مطلب فرمایا کہ یہ بندہ مؤمن دنیا کی تکلیف اور اذیتوں سے چھوٹ کر اﷲ کی رحمت میں جاتا ہے۲؎ اور بدکار بندے سے انسان،شہر،درخت اور جانور سب ہی راحت پاتے ہیں۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی عاقل بالغ میت ان دو قسموں سے خالی نہیں یا وہ مرکر دنیا سے راحت پاتا ہے کہ یہاں کے تشریعی وتکوینی احکام سے چھوٹ جاتاہے یا دنیا اس سے راحت پاتی ہے۔

۲؎ حضرت ابوالدرداء فرماتے ہیں کہ میں موت پسندکرتا ہوں اپنے رب سے ملاقات کے لیئے،بیماری پسندکرتا ہوں خطائیں مٹانے کے لیئے اورفقیری پسندکرتا ہوں تواضع اور انکسار پیداکرنے کے لیئے۔

۳؎ یعنی بدکار بندہ خواہ کافرہویا فاسق مسلمان اس کی بدکاری کی وجہ سے بارشیں نہیں آتیں یا سیلاب آتے ہیں،زمین میں لڑائیاں فساد ہوتے ہیں جس سے سارے جانوروں،درختوں وغیرہ کو تکلیف ہوتی ہے اسی لیئے مؤمن صالح کی موت پر آسمان اور زمین روتے ہیں،رب فرماتاہے:"فَمَا بَکَتْ عَلَیۡہِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ"اور فاجر کے مرنے پر یہ سب خوش ہوتےکیونکہ اس کی بدعملیوں سے سب مصیبت میں تھے،رب فرماتاہے:"ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِی النَّاسِ"یہ حدیث ان آیتوں کی تفسیر ہے۔

1604 -[7]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي فَقَالَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ» . وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ وَمِنْ حياتك لموتك. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑکر فرمایا دنیا میں یوں رہو گویا تم مسافر ہو یا راستہ طے کرنے والے ہو ۱؎ حضرت ابن عمر فرماتے تھے کہ جب تم شام پالو تو صبح کے منتظر نہ رہو اور جب صبح پالو تو شام کی امید نہ رکھو اور اپنی تندرستی سے بیماری کے لیئے اور زندگی سے موت کے لیئے کچھ توشہ لے لو۲؎(بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن