دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ(الایۃ)اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ"مگر یہ دونوں باتیں غلط ہیں پہلی اس لیے کہ خود جناب علی مرتضیٰ نے ابوبکر صدیق کی بیعت کرتے وقت سب کے سامنے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر صدیق سے راضی تھے کہ میرے ہوتے انہیں امامت کے لیے مصلےٰ پرکھڑا کیا،نیزحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے دباؤ سے حق نہ چھپایا تو یہاں بعض کے کہنے پر آپ کیسے خاموش رہ سکتے تھے،نیز اس واقعہ کے چار دن بعدوفات شریف ہوئی اس دوران میں تحریر کیوں نہ فرمادی،نیز حضرت حسین نے ناجائزخلیفہ یزید کی بیعت نہ کی سَر دے دیا تو حضرت علی مرتضٰی ناجائز خلیفہ کی بیعت کیسے کرسکتے تھے حالانکہ ابوسفیان نے علی مرتضٰی سے اس وقت عرض کیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو ابوبکر کے مقابلے میں آپ کے لیے میں لشکر سے جنگل بھردوں تو جناب علی نے انہیں ڈانٹ دیا۔(ازمرقات وغیرہ)دوسرا اعتراض اس لیے غلط ہے کہ اس کی زد میں حضرت علی وغیرہم بھی آجائیں گے کیونکہ یہ شور تو سب کی گفتگو سے مچا،نیز نہ رب تعالٰی نے ان حضرات پرعتاب فرمایا نہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند آوازہونا منع نہیں،صحابہ کرام تلبیہ میں،تکبیرتشریق میں،اذان و اقامت میں اونچی آوازیں کرتے ہی تھے،دوران وعظ میں نعرہ تکبیر لگاتے تھے،بلکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آوازیں اونچی کرنا جس سے سرکار کی آواز دب جائے یہ ممنوع ہے،یہاں سب کی آوازیں ہلکی تھیں مگر بہت سی ہلکی آوازیں مل کرشور کی شکل اختیارکرلیتی ہیں۔

1590 -[68]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: «العيادة فوَاق نَاقَة»

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بیمار پرسی اونٹنی دوہنے کے وقفے کے بقدر ہے ۱؎

۱؎ عرب کے چرواہے اونٹنی دوہنے کے دوران تھوڑا وقفہ کرکے اس کے بچے کوتھنوں پر چھوڑ تے تھے تاکہ اونٹنی باقی دودھ بھی اتار دے اس وقفہ کو فواق کہتے ہیں یہ نہایت ہی معمولی ہوتا تھا،یعنی بیمار کی عیادت میں بہت کم بیٹھو،اس کی وجہ پہلے عرض کی جاچکی۔

1591 -[69]

وَفِي رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا: «أَفْضَلُ الْعِيَادَةِ سُرْعَةُ الْقِيَامِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان

اور سعید ابن مسیب کی مرسل کی روایت میں ہے کہ بہترین عیادت جلد اٹھ جانا ہے ۱؎ (شعب الایمان،بیہقی)

۱؎ یہ تمام اس صورت میں ہے جب بیمار کو اس کے بیٹھنے سے تکلیف ہو،یہاں مرقات نے بہت عجیب حکاتیں بیان کیں،اس میں سے ایک یہ کہ کوئی شخص کسی بیمار کے پاس بہت دیر بیٹھا پھر بولا کہ تمہیں تکلیف کیا ہے بیمار نے کہا تمہارے بیٹھنے کی۔

1592 -[70]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا فَقَالَ لَهُ: «مَا تستهي؟» قَالَ: أشتهي خبز بر. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ» . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أحدكُم شَيْئا فليطعمه» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کی تو فرمایا تیرا دل کیا چاہتا ہے وہ بولا گیہوں کی روٹی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس گیہوں کی روٹی ہو وہ اپنے اس بھائی کو بھیج دے ۱؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارا بیمار کچھ چاہے تو اسے کھلا دو ۲؎(ابن ماجہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن