دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

مطلب ہے کہ صحابہ تین دن تک اپنا مرض ظاہر ہی نہ کرتے تھے یا یہ مطلب کہ بیمار پرسی میں تین دن تک کی تاخیرجائزہے اس سے پہلے عیادت کرنا مستحب،یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے اور وہ فرمان استحباب کے لیے یا یہ مطلب ہے کہ معمولی بیماریوں میں تین دن کے بعد بیمار پُرسی کرتے تھے اورسخت میں پہلے دن۔

1588 -[66]

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ك قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مَرِيضٍ فَمُرْهُ يَدْعُو لَكَ فَإِنَّ دُعَاءَهُ كَدُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم کسی بیمار کے پاس جاؤ تو اسے اپنے لیئے دعا کے لیئے کہو کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے ۱؎(ابن ماجہ)

۱؎ کیونکہ بیمار بیماری کی وجہ سے گناہوں سے صاف ہوچکا ہے،نیز وہ اس حالت میں ہر وقت اﷲ ہی اﷲ کرتا رہتا ہے لہذا وہ فرشتوں کی طرح ہے،نیز وہ بیماری میں بے قرار بے چین ہے،اﷲ تعالٰی بے چینوں کی جلدسنتاہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوۡٓءَ"۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ یا خود بے چین ہوکر دعا مانگو یابے چینوں سے دعا کراؤ خواہ بیماری سے بے چین ہوں یا خوف الٰہی  سے،یہ حدیث ان کی اصل ہے۔

1589 -[67]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ تَخْفِيفُ الْجُلُوسِ وَقِلَّةُ الصَّخَبِ فِي الْعِيَادَةِ عِنْدَ الْمَرِيضِ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَ لَغَطُهُمْ وَاخْتِلَافُهُمْ: «قُومُوا عَنِّي» رَوَاهُ رزين

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ بیمار کے پاس کم بیٹھنا اورکم شورکرنا سنت ہے ۱؎ فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کی آوازیں اور اختلاف بڑھ گیا تو فرمایا ہمارے پاس سے اٹھ جاؤ ۲؎(رزین)

۱؎ کیونکہ تمہاری وجہ سے اس کی تیمار دارعورتیں پردے میں رہیں گی اور دوسروں سے وہ بے تکلف بات چیت نہ کر سکے گا،نیز تمہارے شور سے اسے تکلیف ہوگی اس لیے اس کے پاس کم بیٹھو یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جومحض بیمار پرسی کے لیے جائیں تیمارداری نہ کریں۔

۲؎ واقعہ یہ تھا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات شریف سے چار دن پہلے یعنی جمعرات کے دن صحابہ کرام دولت خانہ میں حاضر تھے،فرمایا قلم دوات اور کاغذ لاؤ میں تمہیں کچھ لکھ دوں تاکہ تم میرے بعد بہک نہ سکو،بعض صحابہ سمجھے کہ یہ امر ہے ا سکی اطاعت واجب ہے اور بعض نے خیال کیا کہ یہ مشورہ ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم تبلیغی احکام سارے پہنچا چکے،امت پر شفقت کے لیے فرمارہے ہیں،مرض کی شدت زیادہ ہے اب آپ کو لکھنے کی تکلیف نہ دی جائے اس اختلاف رائے کی بناء پرمجموعی آوازیں اونچی ہوگئیں تب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔اس کی پوری تحقیق ان شاءاﷲ آگے ہوگی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ سرکارحضرت علی مرتضیٰ کے لیے خلافت لکھنا چاہتے تھے مگر جناب عمرنے تحریر نہ ہونے دی،نیز صحابہ کرام کی بارگاہ نبوی میں آوازیں اونچی ہوگئیں اس سے نعوذ باﷲ وہ مرتد بھی ہوگئے اور ان کے اعمال بھی ضبط ہوگئے،

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن