30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1567 -[45] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوِ الْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى مَالِكٌ نَحْوَهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن اور مؤمنہ کو اس کی جان و مال واولاد کی مصیبتیں پہنچتی رہتی ہیں حتی کہ وہ رب سے اس طرح ملتا ہے کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا ۱؎(ترمذی) مالک نے اس کی مثل،ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ |
۱؎ یعنی جیسے نمازی پاک و صاف ہوکر مسجد میں جاتا ہے ایسے ہی مؤمن بلاؤں کے پانی کے ذریعہ گناہوں کی نجاستوں سے صاف ہوکر مسجدقدس میں حاضری دے کر نمازِ قرب اداکرتا ہے۔اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ یہ قانون ہم جیسے گنہگاروں کے لیے ہے انبیاء،اولیاء،چھوٹے بچے اس سے علیحدہ ہیں ان کی مصیبتوں کی اور وجہ ہے،نیز قانون اور ہے قدرت کچھ اور،بہرحال یہ حدیث قابل اعتراض نہیں۔
|
1568 -[46] وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابتلاه الله فِي جسده أَفِي مَالِهِ أَوْ فِي وَلَدِهِ ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ يُبَلِّغُهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ الله». رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت محمد ابن خالدسلمی سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے ۱؎ راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کسی بندہ کے لیئے کوئی درجہ رب کی طرف سے مقدر ہوچکا ہوجہاں تک یہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتاتو اﷲ اسے اس کےجسم یا مال یا اولاد کی آفت میں مبتلاکردیتا ہے پھر اسے اس پرصبربھی دیتا ہے حتی کہ اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے جو رب کی طرف سے اس کے لیئے مقدر ہوچکا۲؎ (احمد،ابوداؤد) |
۱؎ یعنی محمد ابن خالد کے دادا سے جوصحابی ہیں،عرصہ تک صحبت پاک میں رہے،ان کا نام شریف جلاج ابن حکیم ہے۔
۲؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مصیبت پرصبراﷲ کی توفیق سے ملتا ہے نہ کہ اپنی ہمت و جرأت سے اور صبراﷲ کی بہت بڑی نعمت ہے۔دوسرے یہ کہ درجات اعمال سے ملتے ہیں،بخشش رب کے کرم سے۔علماءفرماتے ہیں کہ جنت کا داخلہ اﷲ کے فضل سے ہوگا مگر وہاں کے درجات مؤمن کے اعمال سے،مگر کبھی دوسرے کے عمل بھی کام آجاتے ہیں، صابرمؤمن کی چھوٹی اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی رہے گی ا گرچہ کچھ عمل نہ کرسکی،کیوں؟ماں باپ کے عمل سے،رب فرماتا ہے:"اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ"۔ان شاءاﷲ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال میں،امام حسین علیہ السلام کے صبر میں ہم گنہگاروں کا حصہ ہے،سخی کے مال میں فقیروں کا حصہ،ان سرکاروں کے اعمال میں ہم بدکاروں کا حصہ،رب فرماتا ہے:"وَ فِیۡۤ اَمْوٰلِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوۡمِ"۔تیسرے یہ کہ انسانوں کے درجات وغیرہ پہلے سے ہی مقرر ہوچکے ہیں جہاں لامحالہ پہنچتا ہے،قیامت کے دن اس کا ظہور ہوگا۔
|
1569 -[47] وَعَن عبد الله بن شخير قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُثِّلَ ابْنُ آدَمَ وَإِلَى جَنْبِهِ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ مَنِيَّةً إِنْ أَخْطَأَتْهُ الْمَنَايَا وَقَعَ فِي الْهَرَمِ حَتَّى يَمُوتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن شخیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کے آس پاس۹۹بلائیں ہیں ۱؎ اگر ان سب بلاؤں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں پڑےگا حتی کہ مرجائے۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ حدیث غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع