30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1565 -[43] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اﷲ تعالٰی کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر دنیا میں سزائیں دے دیتا ہے اور جب کسی بندے کی برائی چاہتا ہے تو اس کی سزا مع گناہوں سےمحفوظ رکھتا ہے حتی کہ اسے قیامت کے دن پوری پوری دے گا ۱؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی گناہوں پر دنیا میں پکڑہوجانا اﷲ کی رحمت کی علامت ہے اور باوجود سرکشی و زیادتی گناہ کے ہرطرح کا عیش ملنا غضب الٰہی کی نشانی ہے کہ اس کا منشاء یہ ہے کہ تمام گناہوں کی سزا آخرت میں دی جائے۔(اﷲ کی پناہ)
|
1566 -[44] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بڑا ثواب بڑی بلاءکے ساتھ ملتا ہے ۱؎ اللہ تعالٰی جب کسی قوم سےمحبت کرتا ہے تو انہیں مبتلاکردیتا ہے جو راضی ہوتا ہے اس کے لیئے رضا ہے اور جو ناراض ہوتا ہے اس کے لیئے ناراضی ہے۲؎(ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ مقصد یہ ہے کہ کسی مؤمن صالح کو بلاؤں میں گرفتار دیکھ کر یہ نہ سمجھ لو کہ یہ بڑا آدمی ہے،نیکوں پر بڑی مصیبتیں بڑے درجات ملنے کا ذریعہ ہیں۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کافر و بدکار پر بڑی بلا آجائے تو اس کا درجہ بڑا ہوگیا،یہ سب کچھ مؤمن کے لیے ہے،مُردے کو بہترین دوائیں دینا بیکار ہے،جڑ کٹے درخت کی شاخوں کو پانی دینا بے سود،اگر کافر عمر بھرمصیبت میں رہے،جب بھی دوزخی ہے اور اگر مؤمن صالح عمر بھر آرام میں رہے جب بھی جنتی،ہاں تکلیف والے مؤمن کے درجے زیادہ ہوں گے بشرطیکہ صابر اور شاکر رہے۔
۲؎ خیال رہے کہ رضا یا ناراضی دل کا کام ہے،لہذا تکلیف میں ہائے وائے کرنا اس کے دفع کی کوشش کرنا یا مریض و مظلوم کا حکیم و حاکم کے پاس جانا ناراضی کی علامت نہیں،ناراضی یہ ہے کہ دل سےسمجھے کہ رب نے مجھ پرظلم کیا میں اس بلا کامستحق نہ تھا۔یہاں صوفیاء فرماتے ہیں کہ بندے کی رضا رب کی رضا کے بعدہے،پہلے اﷲ بندے سے راضی ہوتا ہے تو بندہ رب سے راضی ہوکر اچھے اعمال کی توفیق پاتاہے،پہلے وہ ہمیں یادکرتا ہے تو بعدمیں ہم اسےیادکرتے ہیں،پھر ہماری یاد کے بعد رب ہمیں یادکرتاہے"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"یہ کیونکہ بہت باریک ہے،مولانا فرماتے ہیں۔شعر
گفت اﷲ گفتنت لبیک ما است ایں گداز و سوز و درد از پیک ما است
|
1567 -[45] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوِ الْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى مَالِكٌ نَحْوَهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن اور مؤمنہ کو اس کی جان و مال واولاد کی مصیبتیں پہنچتی رہتی ہیں حتی کہ وہ رب سے اس طرح ملتا ہے کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا ۱؎(ترمذی) مالک نے اس کی مثل،ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع