30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ کیونکہ بڑے طالب علموں کا امتحان بھی بڑا ہوتا ہے اور بعد امتحان انہیں عہدہ بھی بڑا ملتا ہے اور چھوٹے طالب علموں کا امتحان چھوٹا۔شعر
بڑوں کو دکھ بہت ہے اور چھوٹوں سے دکھ دور تارے سب نیارے رہیں گہن چاند اور سور
|
1563 -[41] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا أَغْبِطُ أَحَدًا بِهَوْنِ مَوْتٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ شِدَّةِ مَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت موت دیکھنے کے بعد کسی کی آسان موت پر رشک نہیں کرتی ۱؎(ترمذی،نسائی) |
۱؎ دوسرے کی بھلائی اپنے لیے بھی چاہنا غبطہ یا رشک کہلاتا ہے اورکسی کی نعمت پرجلنا اور اس کا زوال چاہنا حسد یا جلن کہا جاتا ہے،رشک کبھی اچھا ہوتا ہے کبھی برا مگر حسد ہمیشہ بری ہی ہوتی ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پہلے میں کسی کی جانکنی آسان دیکھتی تو رشک کرتی اور چاہتی تھی کہ میری موت بھی ایسی ہی آسان ہو۔سمجھتی تھی کہ آسان نزع مرنے والے کی نیکی ومقبولیت کی علامت ہے مگر جب حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی شدت نزع دیکھی تو یہ خیال و رشک دونوں جاتے رہے، سمجھ گئی کہ سختی جانکنی اچھی چیز ہے بری نہیں۔
|
1564 -[42] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى مُنْكَرَاتِ الْمَوْتِ أَوْ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کی حالت میں دیکھا آپ کے پاس پانی کا پیالہ تھا آپ پیالے میں ہاتھ ڈالتے پھر چہرۂ انور پرپھیر لیتے ۱؎ اورعرض کرتے الٰہی موت کی سختیوں یا دشواریوں پر میری مدد فرما ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ غشی یا تپش دورکرنے کے لیے یہ عمل فرماتے تھےکیونکہ بوقتِ موت بہت گرمی محسوس ہوتی ہے اسی لیے اکثر اس وقت میت کو پسینہ آجاتا ہے اور پیاس کا غلبہ ہوتا ہے اسی لیے اس وقت منہ میں پانی ٹپکانے کا حکم ہے اگرچہ سردی کا موسم ہو۔
۲؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ منکرات سے مراد وسوسے اور برے خیالات ہیں جن سے میت کا دھیان رب سے ہٹ جائے اور سکرات سکرۃ کی جمع ہے،بمعنی غشی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی"۔یہاں وہ تکلیف مراد ہے جو عقل زائل کردے یعنی سخت تکلیف اور یہ دعا امت کی تعلیم کے لیے ہے کہ اس وقت یہ دعا کیا کریں۔مطلب یہ ہے کہ مجھے ان تکالیف کو برداشت کرنے کی طاقت دے یا انہیں کم فرمادے،یہاں شیخ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلطنت الہیہ کے متولی اورمنتظم ہیں،کون و مکان کے سارے احکام آپ کو سپرد ہیں،تمام جہان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دائرہ حکومت میں ہے، ایسی ذمہ دارہستی جب احکم الحاکمین کی بارگاہ میں جائے تو اسے ہیبت زیادہ ہوتی ہے،اس وقت حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر ہیبت الہیہ کا غلبہ تھا،اس کی کیفیت تھی۔(اشعۃ اللمعات)اسی شدت کی اور بہت وجہ بیان کی گئی ہیں،مگر حق یہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حالات ہمارے عقل وقیاس سے وراء ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع