30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یہ جملہ فقیر کی گزشتہ شرح کی تائید کررہا ہے کہ مؤمن کی بیماری میں گناہوں کی تو بخشش ہوجاتی ہے مگر بدستور نیکیاں لکھی جاتی رہتی ہیں،گویا بیماری روحانی غسل ہے یا میلے دل کا صابن۔
|
1561 -[39] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ ". رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت جابر ابن عتیک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ کی راہ میں مارے جانے کے سوا سات شہادتیں اوربھی ہیں ۱؎ طاعون والا شہید ہے،ڈوبا ہوا شہید ہے،ذات الجنب کی بیماری والا شہید ہے،پیٹ کی بیماری والا شہید ہے ۲؎ آگ والا شہید ہے،دب کر مرنے والا شہید ہے، عورت ولادت میں مرجائےتوشہیدہے۳؎(مالک،ابوداؤد، نسائی) |
۱؎ جن میں شہادت فی سبیل اﷲ کا ثواب ملتا ہے جنہیں شہادت حکمی کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا حشرشہداء کے ساتھ ہوگا مگر ان شہادتوں پر کچھ شرعی احکام جاری نہیں ہوتے۔
۲؎ یعنی جو طاعون میں صابر ہوکر مرے اور پیٹ کے درد یا دست یا استسقاءوغیرہ بیماری سے مرے یا ذات الجنب کی بیماری سے مرے جس میں پسلیوں پر پھنسیاں نمودار ہوتی ہیں،پسلیوں میں درد اوربخار ہوتا ہے،اکثر کھانسی بھی اٹھتی ہے یہ سب لوگ حکمًا شہید ہیں،یہ رب کی رحمت ہے کہ ان لوگوں کو درجۂ شہادت عطا فرماتا ہے۔
۳؎ اس طرح کہ حاملہ فوت ہوجائے یا ولادت کی حالت میں میلا نہ نکلنے کی وجہ سے مرے یا ولادت کے بعد چالیس دن کے اندر فوت ہو بہرحال وہ حکمًا شہید ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے مرادکنواری عورت ہے جو بغیر شادی فوت ہوجائے۔
|
1562 -[40] وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: «الْأَنْبِيَاء ثمَّ الْمثل فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَإِنْ كَانَ صلبا فِي دينه اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ هُوِّنَ عَلَيْهِ فَمَا زَالَ كَذَلِكَ حَتَّى يَمْشِيَ على الأَرْض مَال ذَنْبٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حسن صَحِيح |
روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سخت مصیبت والے کون ہیں فرمایا انبیاء پھر ترتیب وار افضل لوگ ۱؎ انسان اپنی دینداری کے مطابق مبتلا ہوتا ہے اگر اس کے دین میں سختی ہے تو اس کی بلائیں بھی سخت ہوں گی ۲؎ اور اگر اس کے دین میں نرمی ہے تو اس پر آسانی کی جائے گئی ایسا ہی ہوتا رہے گا حتی کہ وہ زمین پر بے گناہ ہوکر چلے گا۔(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ |
۱؎ بزرگوں کی سخت آزمائش کی چند وجوہ ہیں:ایک یہ کہ انہیں آزمائشوں میں ایسی لذت آتی ہےجیسی دوسروں کو نعمتوں میں۔دوسرے یہ کہ ان کی یہ تکالیف ان کی بندگی کی دلیل ہیں اگر وہ بیمار نہ ہوں تو معتقدین انہیں خدا سمجھ لیں۔قبطیوں نے فرعون کو خدا سمجھاکیونکہ وہ کبھی بیمار نہ پڑا۔تیسرے یہ کہ ان کی مصیبتوں کی وجہ سے دوسرے پر مصیبت آسان ہوجاتی ہے،کربلا کے واقعہ سے لوگوں کو بہت صبروسکون نصیب ہوتاہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع