30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1555 -[33] وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوِ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهُ فَلْيَقُلْ: رَبُّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمرك فِي السَّمَاء وَالْأَرْض كَمَا أَن رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ. فَيَبْرَأُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تم میں جو کچھ بیمار ہویا اس کا بھائی بیماری کی شکایت کرے تو کہے ہمارا رب وہ اﷲ ہے جو آسمان میں ہے ۱؎ تیرا نام پاک ہے تیرا حکم آسمان و زمین میں ہے جیسے تیری رحمت آسمان میں ہےیوں ہی اپنی رحمت زمین میں کر۲؎ ہمارے گناہ و خطائیں بخش دے تو پاکوں کا رب ہے۳؎ ہم پر اپنی رحمتوں سے کوئی رحمت اتار اور اپنی شفا میں سے شفا اس درد پر اتارتو وہ اچھا ہوجائے گا۔(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی اﷲ کی بادشاہت وحکومت آسمان میں ہے کیونکہ اﷲ تعالٰی آسمان یا زمین میں ہونے سے پاک ہے۔آسمان وہ جگہ ہے جہاں کسی کی ظاہری حکومت بھی نہیں،نیز وہاں سارے معصوم ہی رہتے ہیں اسی لیے اکثر رب تعالٰی کو آسمان کی طرف نسبت کرتے ہیں۔
۲؎ یعنی صدقہ ان فرشتوں کا جنہیں تونے بیماری،آزاری سےمحفوظ رکھا ہے،اس بیمار کو شفاء دے۔اس سے معلوم ہوا کہ نیک مخلوق کے حوالے سے دعاکرنا سنت سے ثابت ہے۔
۳؎ اﷲ کی ربوبیت عامّہ ساری مخلوق کے لیے ہے مگر ربوبیت خاصّہ صرف پاک لوگوں کے لیےیعنی جسمانی روزی سب کو دیتا ہے،کھانا پینا وغیرہ،روحانی روزی،مغفرت،عرفان و ایمان صرف پاکوں کو،یہی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا حال ہے کہ آپ رَحْمَۃ للعٰلمِین بھی ہیں اور بِالْمُؤمِنِیْنَ رَؤُفٌ الرَّحِیْمبھی لہذا حدیث واضح ہے۔
|
1556 -[34] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَاءَ الرجل يعود مَرِيضا فَلْيقل ك اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جِنَازَةٍ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوئی شخص کسی بیمار کی عیادت کو جائے تو یوں کہے الٰہی اپنے بندے کو شفادے وہ تیری راہ میں تیرے دشمن کو زخمی کرے گا یا کسی جنازے میں جائیگا ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی اے مولیٰ اگر تو نے اسے شفاء دے دی تو ممکن ہے کہ کبھی تلوار یا قلم یا زبان سےکفار کا جسم یا دل زخمی کرے یا کبھی مسلمان بھائی کو ادنیٰ نفع پہنچادے کہ بعدموت اس کے جنازے میں شرکت کرے۔معلوم ہوا کہ آئندہ یا گذشتہ نیک اعمال کی برکت سے دعاکرنا سنت ہے اور جب اﷲ کسی بیمارکو شفاء دے تو اس کے شکریہ میں نیکیاں کرے اور کفار کو جنگ میں ایذا دینا ایسا ہی ثواب ہے جیسا مسلمان کو راحت پہنچانا۔
|
1557 -[35] عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمَيَّةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَة عَن قَول الله تبَارك وَتَعَالَى: (إِن تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ الله)وَعَنْ قَوْلِهِ: (مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ) فَقَالَتْ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَذِه معاتبة الله العَبْد فِيمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ حَتَّى الْبِضَاعَةِ يَضَعُهَا فِي يَدِ قَمِيصِهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا حَتَّى إِنَّ الْعَبْدَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التبر الْأَحْمَر من الْكِير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
|
روایت ہے حضرت علی بن زید سے وہ امیہ سے راوی ۱؎ کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے رب کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا کہ خواہ تم اپنے دل کی باتیں ظاہرکرو یا چھپاؤ اﷲ تم سے اس کا حساب لے گا اور اس کے فرمان کے بارے میں جو کوئی گناہ کرے گا اس کا بدلہ دیا جائے گا ۲؎ آپ بولیں کہ جب سے میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا مجھ سے یہ کسی نے نہ پوچھا۳؎ حضور نے فرمایاکہ یہ اﷲ کا بندوں پرعتاب ہے کہ جو اسے بخار یا مصیبت پہنچ جاتی ہے حتی کہ جو مال اپنی قمیص کی آستین میں رکھے پھر اسےگم پائے تو اس سےگھبرا جائے یہاں تک کہ بندہ اپنے گناہوں سے ایسا نکل جاتا ہے جیسے پیلا سونابھٹی سے نکل کر۴؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع