دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۴؎ نیز یہ حدیث امام مالک و شافعی نے بھی روایت کی۔ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے،ابن حبان نے فرمایا کہ صحیح ہے،بیہقی وحمیدی نے اسے ضعیف کہا۔(مرقات)یعنی یہ حدیث مختلف اسنادوں سے محدثین کو ملی،بعض کو صحیح اسناد سے،بعض کو حسن سے،بعض کوضعیف سے،ہر ایک نے اپنی اسناد کے مطابق اسے حسن یا صحیح وغیرہ کہا۔

856 -[35]

وَعَن ابْن عمر والبياضي قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلْيَنْظُرْ مَا يُنَاجِيهِ بِهِ وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابن عمر اور بیاضی سے وہ دونوں کہتے ہیں ۱؎کہ فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نمازی اپنے رب سے مناجات کرتا ہے تو چاہیے کہ غور کرے کہ اس سے کیا مناجات کرتا ہے ۲؎ اور بعض بعض پر قرآن اونچا نہ پڑھے۳؎

۱؎ آپ کا نام عبداﷲ ابن جابر،انصاری،خزرجی،بیاضی ہے،قبیلہ بیاضیہ ابن عامرابن زریق کی طرف منسوب ہیں۔صحیح یہ ہی ہے کہ آپ صحابی ہیں۔

۲؎ یعنی نماز مومن کی معراج ہے اور بحالت نماز مومن رب سے کلام کرتا ہے۔تو جو تلاوت قرآن کرے یا دوسرے اذکار کرے،اس میں غور کرے،دل لگا کر نماز پڑھے کہ نماز کی قبولیت دل لگنے پر ہے۔

۳؎ یعنی چند مسلمان مل کر بلند آواز سے قرآن نہ پڑھیں یا ایک آدمی اونچی تلاوت کرے،باقی سنیں یا سب آہستہ پڑھیں۔خیا ل رہے کہ بچوں کا مل کر اونچی آواز سے قرآن پاک یاد کرنا اس حکم سے خارج ہے کہ وہاں تلاوت قرآن نہیں بلکہ تعلیم قرآن ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ اگرچہ بعض اماموں نے مقتدیوں کو الحمد پڑھنے کا حکم دیالیکن اسے اونچا پڑھنے کی کسی نے اجازت نہ دی اسی حدیث کی وجہ سے،نیز سب کے بلند آواز سے پڑھنے میں قرآن کریم کی بے ادبی ہے۔

857 -[36]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَ النَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ امام اس لیے مقرر کیا گیا کہ اس کی پیروی کی جائے ۱؎ تو جب تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ا ور جب تلاوت کرے تو تم خاموش رہو۲؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی مقتدی پر اعمال نماز میں امام کی پیروی واجب ہے نہ کہ اقوال میں لہذا جو کام کر رہا ہو مقتدی پربھی کرنا واجب ہیں حتی کہ حنفی مقتدی شافعی امام کے پیچھے نماز فجر پڑھے،امام بعد رکوع قنوت نازلہ پڑھے تو حنفی مقتدی پر اس وقت کھڑا رہنا واجب ہے اگرچہ قنوت نہ پڑھے،اس کا ماخذ یہی حدیث ہے۔یہاں اقوال کی پیروی کسی کے نزدیک مراد نہیں۔

۲؎ یعنی امام کے پیچھے قرآن بالکل نہ پڑھو نہ فاتحہ نہ دوسری سورت،خواہ امام آہستہ تلاوت کررہا ہو یا زور سے،خواہ تم تک اس کی آواز پہنچ رہی ہو یا نہ۔یہ حدیث ابوہریرہ مسلم میں بھی ہے جیسا کہ پہلی فصل میں گزر چکا۔اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے "وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا"اسی پر جمہورصحابہ کا عمل ہے کہ وہ امام کے پیچھے قرآن بالکل نہ پڑھتے تھے۔ یہ حدیث امام اعظم ابوحنیفہ کی قوی دلیل ہے،اسی حدیث کی بنا پر امام مالک و احمد جہری نمازوں میں مقتدی کو خاموشی کا حکم دیتے۔بعض حنبلی لوگ فرماتے ہیں کہ مقتدی امام کے سکتوں میں الحمد کی آیتیں پڑھے،بعض کے نزدیک امام الحمد پڑھ کر خاموش رہے،پھر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن