30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مراد لیا،سنہ ہجری خلافت فاروقی سے شروع ہوا،پہلےکسی واقعہ سے سالوں کاحساب لگاتے تھے جیسے فیل کا سال،فتح کا سال وغیرہ۔
|
1553 -[31] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلَّا شُفِيَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَضَرَ أَجَلُهُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کی بیمار پرسی کرے تو سات بار کہہ دے ۱؎ کہ میں عظمت والے اورعرش عظیم کے رب یعنی اﷲ سے دعاکرتا ہوں کہ تجھے شفا دے مگر اسے شفا ہوگی لیکن یہ کہ اس کی موت ہی آگئی ہو۲؎(ابوداؤد،ترمذی) |
۱؎ اکثر دعاؤں میں آخری تعداد تین بار ہوتی ہے،یہاں سات بار ہے تاکہ بیمار کے ساتویں اعضاء سے بیماری دور ہو،نیز بیماری کا دفیعہ اہم ہے اس لیے تعداد بجائے تین کے سات کردی گئی۔(لمعات)
۲؎ یہ حکم تغلیبی ہے یعنی اکثر شفا ہوگی یامطلب یہ ہے کہ اگر اس عمل کے تمام شرائط جمع ہوں تو بفضلہٖ تعالٰی ضرور شفا ہوگی۔اگرکبھی شفاء نہ ہوتوسمجھو کہ ہماری طرف سے کوئی کوتاہی ہے،اﷲ رسول سچے ہیں۔اس سےمعلوم ہوا کہ موت کا علاج نہیں۔مرقاۃ میں ہے کہ اگر قریب المرگ پر یہ دعا پڑھی جائے تو ان شاءاﷲ اس کی جان کنی آسان ہوگی اورایمان پرخاتمہ نصیب ہوگا۔غرضکہ دعارائیگاں نہ جائے گی،شفائے ظاہر نہ ہو تو شفائےباطن ہوگی۔
|
1554 -[32] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يعلمهُمْ من الْحمى وم الأوجاع كلهَا أَن يَقُولُوا: «بِسم الله الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ كُلِّ عرق نعار وَمن شَرّ حر النَّارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ يضعف فِي الحَدِيث |
روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بخار اور تمام دردوں کی یہ دعا سکھاتے تھے کہ کہیں کبریائی والے اﷲ کے نام سے میں ہرخون سے بھری رگ اور آگ کی تپش کی شرارت سے عظمت والے رب کی پناہ مانگتا ہوں ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے،صرف ابراہیم ابن اسمعیل کی حدیث سے پہچانی گئی ہے اور وہ حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں ۲؎ |
۱؎ چونکہ بخار میں آگ کی سی تپش ہوتی ہے اور اکثر درد رگ کے جوش اورخون کے دباؤ سے ہوتے،اس لیے خصوصیت سے ان دونوں کی شر سے پناہ مانگی،یہاں شر سے مراد تکلیف ہے،راحت کا مقابل،یہ شرخیر کے مقابل نہیں،مؤمن کی بیماری بفضلہٖ تعالٰی خیر ہوتی ہے،یعنی باعث ثواب لہذا حدیث پر اعتراض نہیں۔
۲؎ چنانچہ امام قرطُبی نے فرمایا کہ وہ متروک الحدیث ہیں مگر حاکم وبیہقی نے یہ حدیث بروایت صحیح نقل کی۔بہرحال ترمذی کو ضعیف ہوکرملی مگر ان محدثین کوصحیح ملی،اگر ضعیف بھی ہوتی تو فضائل اعمال میں قبول تھی۔
|
1555 -[33] وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوِ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهُ فَلْيَقُلْ: رَبُّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمرك فِي السَّمَاء وَالْأَرْض كَمَا أَن رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ. فَيَبْرَأُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تم میں جو کچھ بیمار ہویا اس کا بھائی بیماری کی شکایت کرے تو کہے ہمارا رب وہ اﷲ ہے جو آسمان میں ہے ۱؎ تیرا نام پاک ہے تیرا حکم آسمان و زمین میں ہے جیسے تیری رحمت آسمان میں ہےیوں ہی اپنی رحمت زمین میں کر۲؎ ہمارے گناہ و خطائیں بخش دے تو پاکوں کا رب ہے۳؎ ہم پر اپنی رحمتوں سے کوئی رحمت اتار اور اپنی شفا میں سے شفا اس درد پر اتارتو وہ اچھا ہوجائے گا۔(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع