30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1547 -[25] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَنِي: «أَنَّهُ عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ وہ ایک عذاب ہے اﷲ جس پر چاہے بھیجے ۱؎ البتہ رب نے اسے مسلمانوں کے لئے رحمت بنادیا ایسا کوئی نہیں کہ جس کے شہرمیں طاعون پھیلے وہ وہاں صبرکرکے اجر کے لئے ٹھہرے یہ جانتے ہوئے کہ اسے وہی پہنچے گا جو اﷲ نے اس کے لیئے لکھا مگر اسے شہید کا سا ثواب ہوگا ۲؎(بخاری) |
۱؎ یعنی طاعون کفار پر عذاب ہے جو کافر اس میں مرے گا وہ عذاب کی موت مرے گا۔
۲؎ یعنی یہ صابر خواہ طاعون میں فوت ہوجائے یا نہیں جب بھی مرے گا اسے درجۂ شہادت ملے گا،گویا طاعون میں صبر شہادت کے اجر کا باعث ہے جیسے کہ روایات میں ہے کہ جو تا جر باہر سے غلہ لاکر فروخت کیا کرے تاکہ شہر کا قحط دور ہو جب مرے گا جیسے مرے گا شہید ہوگا،یونہی طالب علم اور مؤذن۔
|
1548 -[26] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ» |
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون ایک عذاب تھا جو بنی اسرائیل کے ایک ٹولہ پر یا تم سے پہلے والوں پربھیجا گیا ۱؎ تو جب تم اسےکسی زمین میں سنو تو وہاں نہ جاؤ اورجب وہاں پھیل جائے جہاں تم ہوتووہاں سے نہ بھاگو ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ وہی بنی اسرائیل تھے جن سے کہا گیا تھا کہ تم توبہ کے لیے بیت المقدس میں سجدہ کرتے ہوئے جاؤ تو وہ گھسٹتے ہوئے گئے تھے،انہیں پر طاعون بھیجا گیا جس سے ایک ساعت میں چوبیس ہزار ہلاک ہوگئے،رب تعالٰی فرماتا ہے:" فَاَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ"۔اس سے معلوم ہوا کہ محبوبوں کے شہروں کی بے ادبی کرنے پر عذاب الٰہی آجاتا ہے۔
۲؎ کیونکہ یہ ایک بلاء ہے اور بلاء میں خود جانانہیں چاہیے اور جب آجائے تو گھبرانا نہیں چاہیے۔خیال رہے کہ بلاء سے فرار نہیں بچاتا بلکہ استغفار بچاتا ہے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ اگر کوئی طاعون کی جگہ سےکسی ضرورت کے لیے باہر جائے مضائقہ نہیں،بھاگنے کی نیت سے نکلنا گناہ ہے۔
|
1549 -[27] وَعَن أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجنَّة " يُرِيد عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ رب تعالٰی فرماتاہے جب میں اپنےکسی بندے کو اس کی دو پیاری چیزوں یعنی آنکھوں میں مبتلا کر دوں ۱؎ پھر وہ صبرکر جائے تو میں انکے عوض اسے جنت دوں گا۔(بخاری) |
۱؎ اس طرح کہ اسے اندھاکردوں یا اس کی بینائی ایک دم کمزورکردوں،بعض روایتوں میں ایک آنکھ کابھی ذکر ہے،ایسے شخص کو چاہیے کہ اس مصیبت پر ان انبیاء،اولیاء کے حالات میں غور کرے جونابیناہوکر صابروشاکر تھے،سیدنا عبداﷲ ابن عباس آخری عمر میں نابینا ہوگئے تو یہ پڑھا کرتے تھے۔شعر
اِنْ یَذْھَبَ اﷲُ مِنْ عَیْنِیْ نُوْرَھُمَا فَفِیْ لِسَانِیْ وَقَلْبِیْ لِلْھُدیٰ نُوْرٌ
یعنی اگر میری آنکھ کی روشنی جاتی رہی تو کیا ہوا،میری زبان اور دل میں تو ہدآیت کا نور ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع