30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی اگر بیماری یا سفر کی وجہ سے وہ تہجد وغیرہ نوافل نہ پڑھ سکے یا جماعت میں حاضر نہ ہوسکے تو اس کو ان کا ثواب مل جائے گا بشرطیکہ تندرستی میں ان چیزوں کاپابند ہو۔حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیماری یا سفرمیں فرائض معاف ہوجاتے ہیں وہ تو ادا کرنے ہی پڑیں گے اور اگر وہ رہ گئے ہوں تو ان کی قضاء واجب ہوگی۔
|
1545 -[23] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لكل مُسلم» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ طاعون ہرمسلمان کی شہادت ہے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ طاعون طعن سے بنا،بمعنی نیزہ مارنا،چونکہ اس بیماری میں مریض کو پھوڑے یا زخم سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اسے کوئی نیزے ماررہا ہے،سُوئیاں چبھورہا ہے اس لیے اسے طاعون کہا جاتاہے۔یہ مشہور وبائی بیماری ہے۔(لمعات)چونکہ در حقیقت اس مرض میں بیمارکو جنات نیزے مارتے ہیں اس لیے اس میں شہادت کا ثواب ہے۔احمدنے حضرت ابوموسیٰ سے مرفوعًا روایت کیا کہ میری امت کی فنا طعن اور طاعون سے ہوگی۔(مرقاۃ)
|
1546 -[24] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحب الْهدم والشهيد فِي سَبِيل الله» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہید پانچ ہیں ۱؎ طاعون والا،پیٹ کی بیماری والا،ڈوبا ہوا،دب کر مرنے والا اور اﷲ کی راہ کا شہید۔ (مسلم،بخاری) |
۱؎ شہید کے معنی ہیں گواہ یا حاضر،چونکہ قیامت میں شہید سرکاری گواہ ہوگا،نیز وہ اپنے خون سے توحید و رسالت کی گواہی دیتاہے اور یہ مرتے ہی بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوتا ہے اور اس کی جان کنی پر رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں،ان وجوہ سے اسے شہید کہتے ہیں۔شہیدحقیقی وہ ہے جو ظلمًا قتل ہو۔اور شہیدحکمی وہ جنہیں شہادت کا ثواب دے دیا جائے،شہید حکمی قریبًا ۸۰ہیں جس میں سے یہاں پانچ کا ذکرہے:جو طاعون کی بیماری میں صابرہوکرمرے وہ شہیدہے،جوپیٹ کی بیماری دست وغیرہ میں مرے، اتفاقیہ ڈوب جائے،اونچے سےگر جائے یا عمارت میں دب جائے یہ سب حکمی شہید ہیں۔دیدہ دانستہ دریا میں ڈوبنے والے یا اوپر سےکودنے والے حرام موت مریں گے شہید نہ ہوں گے،اس جگہ مرقاۃنے شہادت کی بہت سی قسمیں بیان فرمائیں۔
|
1547 -[25] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَنِي: «أَنَّهُ عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ وہ ایک عذاب ہے اﷲ جس پر چاہے بھیجے ۱؎ البتہ رب نے اسے مسلمانوں کے لئے رحمت بنادیا ایسا کوئی نہیں کہ جس کے شہرمیں طاعون پھیلے وہ وہاں صبرکرکے اجر کے لئے ٹھہرے یہ جانتے ہوئے کہ اسے وہی پہنچے گا جو اﷲ نے اس کے لیئے لکھا مگر اسے شہید کا سا ثواب ہوگا ۲؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع