30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1540 -[18] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے اور گلے کے درمیان وفات پائی ۱؎ تو میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکسی کے لیئے سختی موت کوکبھی ناپسندنہیں کرتی ۲؎(بخاری) |
۱؎ اس طرح کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا جسم شریف آپ کے جسم پر تھا،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ آپ کے سینہ پر اور سر مبارک گلے کے پاس۔سبحان اﷲ!غار ثور میں صدیق اکبر کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک آپ کے زانو پر تھا اور بوقت وفات اس طیبہ،طاہرہ،عفیفہ،صدیقہ کو یہ عزت ملی،قرآن کی رحل بھی عزت والی ہے،ان حضرات کے جسم قرآن والے کی رحل ہیں،ان کی عزتیں قیامت میں دیکھنا۔
۲؎ یعنی پہلے میرا یہ خیال تھا کہ نزع کی تکلیف گناہوں کی زیادتی سے ہوتی ہے اور موت کی آسانی رب کی نعمت ہے مگر جب سے میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شدت نزع دیکھی تب سے یہ دونوں خیال جاتے رہے۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی نے بیماریوں اور وفات کی تکلیفوں کو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم پر اس لیے زیادہ کیا کہ قیامت تک آپ کے مصیبت زدہ امتی آپ کے ان حالات کو سن کرتسلی پائیں۔مبارک ہیں وہ رسول جن کی بیماری بھی تبلیغ اور امت کے لیے ذریعۂ رحمت ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔
|
1541 -[19] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفَيِّئُهَا الرِّيَاح تصرعها مرّة وتعدلها أُخْرَى حَتَّى يَأْتِيهِ أَجَلُهُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَة» |
روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن کی مثال کچی کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی ہیں یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی آفت نہیں پہنچتی حتی کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی مسلمان کی زندگی بیماریوں،مصائب وتکالیف میں گھری ہوتی ہے جن پر وہ صبرکرکے گناہوں سے پاک و صاف ہوتا رہتا ہے،منافق و کافر کی زندگی آرام و آسائش سےگزرتی ہے جس سے اس کی غفلتیں بڑھ جاتی ہیں پھر یکبارگی ہی موت آتی ہے۔یہ قاعدہ اکثریہ ہے کلیہ نہیں،بعض کافر اکثر بیمار رہتے ہیں اور بعض مؤمن کم بیمار ہوتے ہیں،نیز بعض غافل بیمار ہوکر اور زیادہ غافل بلکہ بے ادب ہوجاتے ہیں،رب کو گالیاں دیتے ہیں اوربعض مؤمن تندرستی میں ایک سانس ذکر الٰہی کے بغیر نہیں لیتے مگر ایسا بہت کم ہے لہذا اس حدیث پرکوئی اعتراض نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بالکل برحق ہے۔
|
1542 -[20] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تزَال لاريح تميله وَلَا يزَال الْمُؤمن يصبيه الْبَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزَةِ لَا تهتز حَتَّى تستحصد» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن کی مثال کھیت کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی رہتی ہیں اور مؤمن کو مصیبتیں پہنچتی رہتی ہیں اورمنافق کی مثال درخت صنوبر کی سی ہے جو کٹنے تک جنبش نہیں کرتا ۱؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع