دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

1538 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ» . قَالَ: فَقُلْتُ: ذَلِكَ لِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ فَقَالَ: «أَجَلْ» . ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا»

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ کو بخارتھا میں نے اپنے ہاتھ سے جسم اطہر چھوا توعرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم حضورکو بخار بہت ہی سخت آتا ہے ۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھ کو تمہارے دو شخصوں کے برابر بخار ہواکرتا ہےفرماتے ہیں میں نے عرض کیا یہ اس لیے ہوگا کہ حضورکو ثواب بھی دوگنا ہے ۲؎ فرمایا ہاں پھر فرمایا کوئی مسلمان ایسانہیں جسےکوئی تکلیف بیماری وغیرہ پہنچے مگر اﷲ تعالٰی اس کے گناہ یوں جھاڑ دیتا ہےجیسے درخت اپنے پتوں کو ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ تُوعَك وَعكٌ سے بنا،بمعنی بخار کی گرمی اور تکلیف۔اس جملہ سےمعلوم ہوا کہ غلام آقاکی مزاج پرسی بھی کرے اور اس کےجسم کو ہاتھ بھی لگائے۔خیال رہے کہ بخارمرضِ انبیاء ہے،ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بخار ہی سے ہوئی۔

۲؎ یہ ہے صحابہ کا ادب و احترام،یعنی یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو وہم بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کی بیماری خطاؤں کی معافی کے لیے ہو،آپ کو گناہ و خطا سے نسبت ہی کیا،آپ کی بیماری صرف بلندیٔ درجات کے لیے ہوسکتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں سے ہم گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں ان سے نیک کاروں کے درجے بڑھتے ہیں۔

۳؎ مسلمان سے مراد گنہگارمسلمان ہے۔بے گناہ مسلمان جیسے ابوبکرصدیق وغیرہم اور ناسمجھ بچے اس حکم سے علیحدہ ہیں،ان کے درجے بلند ہوں گے۔اس جملہ سے معلوم ہوا کہ لفظ مسلم اور مؤمن میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم داخل نہیں ہوا کرتے،یہ الفاظ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم توعین ایمان ہیں،ہم نے اپنی "تفسیرنعیمی"پہلے پارے میں ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم میں"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا"میں امت سے خطاب ہوتا ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم داخل نہیں ہوتے۔

1539 -[17] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا الْوَجَعُ عَلَيْهِ أَشَدُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے ایسا کوئی نہ دیکھا جسےحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت بیماری ہوتی ہو ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بیماری،درد،بخار وغیرہ دوسروں کی بیماریوں سے زیادہ سخت ہوتی تھیں۔چنانچہ بخاری نے ادب میں اور ابن ماجہ وحاکم وبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابی سعید سے روایت کی کہ میں نے ایک بار حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو بخار میں دیکھا کہ کمبل شریف کے اوپر سے بخار کی تپش محسوس ہوتی تھی،میں نےگھبراکر کہا یارسول اﷲ اتنا تیز بخار،تو فرمایا انبیاءکو ایسا ہی تیز بخار ہوتا ہے۔

1540 -[18]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے اور گلے کے درمیان وفات پائی ۱؎ تو میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکسی کے لیئے سختی موت کوکبھی ناپسندنہیں کرتی ۲؎(بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن