30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1533 -[11] وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي يَأْلَمُ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ". قَالَ: فَفَعَلْتُ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص سے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درد کی شکایت کی جو ان کےجسم میں تھا ۱؎ تو ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اپنےجسم کے بیمارحصہ پر اپنا ہاتھ رکھو،تین بار بسم اﷲ اور سات بار یہ دعا پڑھو،میں اﷲ کی عزت اور اﷲ کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے جو اب میں پاتا ہوں اور جس سے آئندہ خوف کرتا ہوں میں نے یہ عمل کیا تو اﷲنے میری بیماری دورکردی ۲؎(مسلم) |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ بیماری،ناداری اورتمام مصائب کی شکایت حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے کرسکتے ہیں۔ہم گنہگاروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فریادکرنا اسی حدیث سے ماخوذ ہے،اس میں رب سے ناراضی نہیں بلکہ اپنے شہنشاہ سے فریاد ہے اور دفعیہ کے لیے عرض معروض ہے جیسے مظلوم حاکم سے اور بیمارحکیم سے اپنی شکایات پیش کرتے ہیں۔
۲؎ خیال رہے کہ ان صحابی نے خود ہی دعا نہ مانگی بلکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لےکر دعا کی۔مشائخ کرام سے جو وظیفوں اور دعاؤں کی اجازت لی جاتی ہے اس کی اصل یہ حدیث ہے،اجازت سے عمل کی تاثیر بڑھ جاتی ہے،دعائیں کارتوس ہیں اور بزرگوں کی زبان اور اجازت رائفل،بغیر رائفل شیر مارنے والا کارتوس مرغی کو نہیں مارسکتا۔
|
1534 -[12] وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ أَن جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَشْتَكَيْتَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» . قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شرك كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِسم الله أرقيك. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ جبرئیل امین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے عر ض کیا اے محمد مصطفے! کیا آپ بیمار ہیں ۱؎ فرمایا ہاں فرمایا میں آپ پر اﷲ کے نام سے افسوں کرتا ہوں موذی چیز سے،ہرنفس کی شرارت سے،حسد والی آنکھ سے اﷲ تمہیں شفا دے اﷲ کے نام سے افسوں کرتا ہوں۲؎(مسلم) |
۱؎ حضرت جبریل خود نہ آئے تھے بلکہ رب نے بھیجا تھا،یہ مزاج پرسی رب کی طرف سے تھی،قرآن کریم فرماتا ہے:"وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ"۔اس سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبیت کا پتہ لگا کہ رب ان کی مزاج پرسی کرے اور رب ہی جبریل کو بھیج کر ان پر دم کرائے۔شعر
سربالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے
۲؎ یہاں افسوں جادو کے معنی میں نہیں کہ فرشتے اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اس سے پاک ہے بلکہ دم جائز منتر یا اسلامی ٹوٹکا مراد ہیں۔اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ حسدونظر بدبھی بڑی آفتیں ہیں اﷲ محفوظ رکھے۔
|
1535 -[13] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يعوذ الْحسن وَالْحسن: «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» وَيَقُولُ: «إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يعوذ بهما إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي أَكْثَرِ نُسَخِ المصابيح: «بهما» على لفظ التَّثْنِيَة |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم حسن وحسین پر یوں تعویذ کرتے کہ میں تمہیں اﷲ کے پورے کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ۱؎ ہر شیطان و زہریلے جانور سے اور ہر بیمارکرنے والی نظر سے۲؎ اور فرماتے کہ تمہارے والد اسی دعا سے حضرت اسمعیل و اسحاق کوتعویذکرتے تھے ۳؎(بخاری)اورمصابیح کے اکثر نسخوں میں تثنیہ کے لفظ سے ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع