30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی اولًا آپ مرض کی جگہ انگلی رکھتے پھر انگلی پر کچھ لعاب شریف لگاکر مٹی لگاتے،پھر اس کا لیپ مرض کی جگہ کر دیتے اور یہ فرماتے جاتے کہ بفضلہٖ تعالٰی ہمارا لعاب اور مدینہ کی مٹی شفاہے۔اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ بیماری پر ٹوٹکے اور منترجائز ہیں بشرطیکہ اس کے الفاظ کفریہ نہ ہوں اورکوئی کام حرام نہ ہو،اس کی اصل یہ حدیث بھی ہے اور وہ بھی کہ نظر بدمیں نظر والے کے ہاتھ پاؤں کو دھلاکر بیمارکو چھینٹا مار دو،شامی نےنظر اور جادو دفع کرنے کے بہت ٹوٹکے بیان فرمائے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب شریف شفا ہے،بعض صوفیاء دم کرتے وقت کچھ لعاب بھی ڈال دیتے ہیں،اس کی اصل یہ حدیث ہے۔تیسرے یہ کہ مدینہ پاک کی مٹی شفا ہے وہاں کی خاک کو جو خاک شفا کہا جاتا ہے،اس کی اصل یہ حدیث ہے،مرقاۃ میں فرمایا کہ وطن کی خاک بھی شفا ہوتی ہے اگر کوئی مسافر اپنے وطن کی مٹی پردیس لے جائے جس میں تھوڑی پینے کے گھڑے میں ڈال دیا کرے تو ان شاءاﷲ وہاں کا پانی نقصان نہ دے گا۔
|
1532 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَتْ: كَانَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو اپنے پر اعوذ کی آیات دم کرتے اور اپنا ہاتھ وہاں پھیرتے ۱؎ تو جب حضور کو وہ بیماری ہوئی جس میں حضور کی وفات ہوئی تو میں آپ پر وہی دعائیں دم کرتی جو آپ دم کرتے تھے اور آپ کا ہاتھ پھیرتی۲؎ (مسلم،بخاری)اورمسلم کی روایت میں ہے فرماتی ہیں کہ جب حضور کے گھر والوں میں سےکوئی بیمارہوتا تو آپ اس پر اعوذ والی آیات دم کرتے۳؎ |
۱؎ عنہ کی ضمیر نفث کی طرف ہے یعنی وہ آیات پڑھ کر اپنے ہاتھ پر دم کرتے،پھر ہاتھ شریف بیمار جگہ پر پھیر لیتے تاکہ آیت قرآنی کا دم شریف اور ہاتھ کی برکتیں جمع ہوجائیں۔اس حدیث سےصوفیاء کا دم درود بیمار جگہ پر ہاتھ پھیرنا سب ثابت ہوا۔
۲؎ یعنی مرضِ وفات میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے تو دم و دعائیں ساری چھوڑ دی تھیں کیونکہ آپ جانتے تھے یہ بیماری آخری ہے اس سے شفاءنہیں۔(مرقاۃ)مگر ام المؤمنین مایوس نہ تھیں،شفاء کے لیے آیتیں پڑھتیں اور برکت کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر دم کرتیں۔
۳؎ جیسے فلق اور ناس وغیرہ،یہاں ہاتھ پھیرنے کا ذکر نہیں کیونکہ آپ کبھی فقط دم کرتے تھے کبھی ہاتھ بھی پھیرتے تھے۔
|
1533 -[11] وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي يَأْلَمُ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ". قَالَ: فَفَعَلْتُ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص سے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درد کی شکایت کی جو ان کےجسم میں تھا ۱؎ تو ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اپنےجسم کے بیمارحصہ پر اپنا ہاتھ رکھو،تین بار بسم اﷲ اور سات بار یہ دعا پڑھو،میں اﷲ کی عزت اور اﷲ کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے جو اب میں پاتا ہوں اور جس سے آئندہ خوف کرتا ہوں میں نے یہ عمل کیا تو اﷲنے میری بیماری دورکردی ۲؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع