دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

وَاَنۡصِتُوۡا"۔چوتھے یہ کہ اس حدیث کے متعلق امام ترمذی نے فرمایا کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس میں صرف اتنا ہے "لَاصَلوٰۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَءْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ" یعنی اس میں مقتدی کا ذکر نہیں لہذا یہ حدیث ناقابل عمل ہے یا منسوخ ہے۔

۳؎ یہ الفاظ بظاہر ہمارے مخالفین کے بھی خلاف ہیں کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جہری نماز میں میرے پیچھے صرف الحمد پڑھا کرو اور اخفا کی نماز میں الحمد اور سورت سب پڑھ لیا کرو حالانکہ وہ حضرات بھی مقتدی کو سورت پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے۔

855 -[34]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: «هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا؟» فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ «. قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهُ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے جس میں اونچی قرأت کی جاتی ہے تو فرمایا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی قرأت کی ایک شخص نے کہا ہاں یارسول اﷲ ۱؎ فرمایا تب ہی میں سوچتا تھا کہ مجھے کیا ہوا کہ میں قرآن میں جھگڑا کیاجارہا ہوں ۲؎ فرماتے ہیں کہ پھر لوگ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان نمازوں میں قرأت سے باز رہے جن میں بلند قرأت کی جاتی ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ۳؎(امام مالک،احمد،ابو داؤد،ترمذی،نسائی)ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی ۴؎

۱؎ معلوم ہوا کہ ساری جماعت صحابہ میں صرف ان صاحب نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے الحمد پڑھی باقی کسی نے نہ پڑھی،انہوں نے بھی بے خبری کی وجہ سے پڑھی۔

۲؎ یعنی تمہارے پڑھنے کا مجھ پر یہ اثر پڑا کہ مجھے قرآن میں لقمے لگنے لگے۔اس کی تحقیق ابھی ہم کرچکے کہ مقتدی کی قرأت کا امام پر اثر پڑتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ انہوں نے چیخ کر قرأت کی ہو ورنہ حضور نہ پوچھتے کہ کیا تم نے قرأت کی ہے۔

۳؎ یعنی اس فرمان کے بعد صحابہ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جہری نمازوں میں تلاوت بالکل چھوڑ دی نہ الحمد پڑھی نہ اور سورت۔خیال رہے کہ نسخ کی ترتیب یہ ہے کہ اولًا مسلمان نماز میں باتیں بھی کرتے تھے اورامام کے پیچھے فاتحہ بھی پڑھتے تھے جب یہ آیت اتری"وَقُوۡمُوۡا لِلہِ قٰنِتِیۡنَ" تو نماز میں کلام بند ہوگیا،پھر اس حدیث سے جہری نمازوں میں امام کے پیچھے الحمد پڑھنا بند ہوگئی،پھر یہ آیت اتری"وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ " الخ،تب امام کے پیچھے قرأت بالکل بند ہوگئی،نیز حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے۔نسخ کی یہ ترتیب تفسیرِ خازن وغیرہ میں دیکھو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ"وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ"میں قرآن سے مراد خطبہ ہے اور آیت میں خطبہ کے وقت خاموشی کا حکم دیا گیا ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ اس آیت کے نزول کے وقت جمعہ فرض ہی نہیں ہوا تھا۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن