دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

1526 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا: بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْحَرِيرِ والْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَالْقَسِّيِّ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَفِي رِوَايَةٍ وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا لم يشرب فِيهَا فِي الْآخِرَة

روایت ہےحضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا اور سات سے منع کیا،ہمیں مریض کی عیادت،جنازوں کے ساتھ جانے، چھینک والے کا جواب دینے،سلام کا جواب دینے،دعوت قبول کرنے،قسم والے کو بری کرنے ۱؎ مظلوم کی مددکرنے کا حکم دیا ۲؎ اورسونے کی انگوٹھی باریک وموٹے ریشم و دیباج پہننے۳؎ سرخ نمدے ۴؎ اورقسی پہننے۵؎ چاندی کے برتن کے استعمال سے منع فرمایا اور ایک روایت میں ہے کہ چاندی میں پینے سے منع فرمایا کہ جو دنیا میں اس میں پی لے گا وہ آخرت میں اس سے نہ پی سکے گا۶؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی اگر کوئی شخص آئندہ کے متعلق کسی ایسے کام کی قسم کھائے جوتم کرسکتے ہو تو ضرورکردو تاکہ اس کی قسم پوری ہوجائے اورکفارہ واجب نہ ہو،مثلًا کوئی کہے کہ خدا کی قسم جب تک تم فلاں کام نہ کرلو میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں یا خدا کی قسم کل تم میرے پاس ضرورآؤ گے یا اگر تم فلاں کام نہ کرو تو میری بیوی کو طلاق،ان سب صورتوں میں تم وہ کام ضرور کرلو،بشرطیکہ وہ کام ناجائز نہ ہو۔

۲؎ لمعات ومرقات میں ہے کہ مظلوم مسلمان ہو یا کافر و ذمی یا مستامن حتی المقدور اس کی ضرور مدد کی جائے۔

۳؎ حریر سےمراد باریک ریشم ہے اور استبراق سے موٹا ریشم،دیباج وہ ہے جس کا بانا ریشم ہو اور تانا سوت وغیرہ کایا وہ جس میں ریشم زیادہ ہو اور دوسری چیزکم،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تفصیل تاکیدًا فرمائی یعنی کسی طرح کا ریشم مرد نہ پہنیں۔

۴؎ گھوڑے کی کاٹھی پر گدیلایانرم و موٹا کپڑا میثرہ کہلاتا ہے یہ اگر ریشم کا ہو تو حرام ہے اور اگرکسی اور کپڑے کا ہومگر ہو سرخ تو مکروہ کیونکہ یہ متکبرین کی علامت ہے،خود کاٹھی کا بھی یہی حکم ہے۔

۵؎ مصر کے علاقہ میں ایک بستی قسی تھی،وہاں کے بنے ہوئے کپڑے کو قسی کہتے تھے،جیسے ہمارے ہاں بھاگل پوری قسی کتان اور حریر سے بنتا تھا مگر حریر غالب ہوتا تھا اس لیے اس سے منع فرمایا گیا۔منشاء یہ ہے کہ نام کچھ بھی ہو ریشم پہننا حرام ہے، شراب کو برانڈی کہہ دینے سے حرمت ختم نہیں ہوجاتی۔ 

۶؎ یعنی وہ جنت میں نہ جائے گا کیونکہ تمام جنتی چاندی کے برتنوں میں پئیں گے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"قَوَارِیْرَا۠ؔؔ﴿ۙ۱۵﴾ قَوَارِیْرَا۠ؔؔ مِنۡ فِضَّۃٍ"۔مطلب یہ ہے کہ اپنے عذاب اور دوزخ میں رہنے کی مدت تک جنت میں جانے اور وہاں کے برتنوں کے استعمال سےمحروم رہے گا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اسے جنت میں بھی دوسرے برتن دیئے جائیں گے۔خیال رہے کہ سوناچاندی پہننے کی حرمت صرف مردوں کے لیے ہے،عورتوں کے لیے یہ سب جائز ہے،لیکن چاندی سونے کے برتنوں میں کھانا پینا عورت مرد سب کو حرام۔ 

1527 -[5]

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسلم لم يزل فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو جنت کے باغ میں رہتا ہے حتی کہ لوٹ آئے ۱؎(مسلم)

۱؎ خرفہ باغ کو بھی کہتے ہیں اور باغ سے چنے ہوئے پھلوں کوبھی اور خود چننے کوبھی،یعنی چونکہ بیمار پرسی کا ثواب جنت ہے اس لیے جو بیمار پرسی کرنے گیا گویا جنت ہی میں چلا گیا جیسے کہا جاتا ہے کہ جو ریل میں بیٹھ گیا گویا منزل پرپہنچ گیا۔

1528 -[6]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِن الله عز وَجل يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَّا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ أما إِنَّك لَو سقيته لوجدت ذَلِك عِنْدِي ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی قیامت کے دن فرمائے گا اے انسان میں بیمار ہوا تو نے میری مزاج پرسی نہ کی بندہ کہے گا الٰہی  میں تیری عیادت کیسے کرتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا کیا تجھے خبر نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تو تو نے اس کی بیمار پرسی نہ کی ۱؎ کیا تجھے خبرنہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا اے آدمی میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے نہ کھلایا عرض کرے گا الٰہی  تجھے میں کیسےکھلاتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا کیا تجھےعلم نہیں کہ تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تونے اسے نہ کھلایا کیا تجھے پتہ نہیں کہ اگر تو اسے کھلاتا تو میرے پاس پاتا ۲؎ اے انسان میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے نہ پلایا عرض کرے گا مولا میں تجھے کیسے پلاتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا تجھ سے میرے فلاں بندے نے پانی مانگا تو نے اسے نہ پلایا اگر تو اسے پلاتا تو آج میرے پاس وہ پاتا ۳؎(مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن