30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ کہ یہ دو سورتیں فجرجیسی اہم نماز میں کافی ہوگئیں اور ان بڑی سورتوں کے قائم مقام ہوگئیں جو فجر میں پڑھی جاتی ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ان سورتوں کو نماز میں پڑھنے کی وجہ سے حضرت عقبہ پر ان کے اسرار کھل گئے تب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عقبہ کچھ دیکھ لیا یہ سورتیں ایسی ہیں۔
|
849 -[28] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ: (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ)و (قل هُوَ الله أحد)رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت جابر بن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی رات نماز مغرب میں "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ " اور "قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ" پڑھتے تھے۔(شرح سنہ) |
|
850 -[29] وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ إِلَّا أَنه لم يذكر «لَيْلَة الْجُمُعَة» |
ا بن ماجہ نے حضرت ابن عمر سے روایت کی مگر انہوں نے شبِ جمعہ کا ذکر نہ کیا ۱؎ |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ نماز مغرب سے فرائض مغرب مراد ہیں،اور یہ عمل بھی دائمی نہ تھا اکثری تھا۔
|
851 -[30] وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا أحصي مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ)و (قل هوا لله أحد)رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے فرماتے ہیں کہ شمار نہیں کرسکتا کہ میں نے کس قدر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد کی سنتوں اورفجر سے پہلے سنتوں میں "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ" اور "قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ" پڑھتے سنا ۱؎(ترمذی) |
۱؎ سنتوں میں قرأت آہستہ ہوتی ہے جسے دوسرا نہیں سن سکتا لیکن حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدھ آیت اونچی پڑھ دیتے تاکہ لوگوں کو یہ مسئلہ معلوم ہوجائے۔
|
852 -[31] وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا أَنه لم يذكر: «بعد الْمغرب» |
اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا مگر انہوں نے بعد مغرب کا ذکر نہ کیا۔ |
|
853 -[32] وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فلَان. قَالَ سُلَيْمَان: صَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظّهْر ويخفف الْأُخْرَيَيْنِ ويخفف الْعَصْر وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ إِلَى ويخفف الْعَصْر |
روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کے پیچھے ایسی نماز نہ پڑھی جو زیادہ مشابہ ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بمقابلہ فلاں کے ۱؎ سلیما ن نے فرمایا کہ میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں دراز کرتے تھے اور آخری رکعتیں ہلکی اور عصر کی ہلکی پڑھتے تھے اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے تھے اور عشاء میں وسط مفصل صبح میں طوال مفصل۲؎(نسائی)اور ابن ماجہ نے یہاں تک روایت کی کہ عصر ہلکی پڑھتے تھے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع