30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ مضمون دونوں حدیثوں کا تقریبًا یکساں ہے،الفاظ میں کچھ فرق ہے۔یہاں خطاب مالداروں سے ہےکیونکہ گرہن کے وقت صدقہ دینے کا انہی کو حکم ہے۔ملا علی قاری نے فرمایا کہ اکثر دنیا میں عذاب مالداروں کی وجہ سے آتا ہے اور رحمتیں فقراء کی وجہ سےکیونکہ زیادہ گناہ مالدار ہی کرتے ہیں کہ وہ مال کی وجہ سے بہت گناہوں پرقادر ہوتے ہیں لہذا ہرمصیبت میں انہیں زیادہ ڈرناچاہیئے۔
۲؎ یعنی جیسے ایک شریف آدمی کویہ گوارا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زناکرے وہ اس پر ان کوسخت سزا دیتا ہے،ایسے ہی رب تعالٰی کا غضب بندوں کے زنا پر جوش میں آتاہے۔خیال رہے کہ کفر کے بعد بدترین گناہ زنا ہےجس پرسخت عذاب آتے ہیں اسی لیے شریعت میں اس کی سزا قتل کی سزا سے بدتر ہےیعنی سنگسارکرنا،یعنی اﷲ کے عذاب اور غضب جو میرے علم و مشاہدہ میں ہیں اگر تمہارے علم و مشاہدہ میں آجاتے تو ہنسنابھول جاتے،یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا تحمل ہے کہ دونوں جہاں کو سنبھالے ہوئے ہیں،سب کچھ دیکھتے بھالتے دنیا میں بھی شاغل ہیں۔
|
1484 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةَ فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ قَطُّ يَفْعَلُهُ وَقَالَ: «هَذِهِ الْآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ واستغفاره» |
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں کہ سورج گھر گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے کھڑے ہوئے اس خوف سے کہ قیامت آگئی ۱؎ مسجدمیں تشریف لائے بہت دراز قیام و رکوع اور سجدے سے نماز پڑھی کہ ایساکرتے میں نے آپ کوکبھی نہ دیکھا۲؎ اور فرمایا یہ وہ نشانیاں ہیں جن کو اﷲبھیجتا ہےکسی کی موت و زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتیں لیکن اﷲ اس سے اپنے بندوں کو ڈراتاہے۳؎ تو جب تم ان میں سے کچھ دیکھو اﷲ کے ذکر،دعا و استغفار کی طرف گھبراکر آجاؤ ۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ بطورتمثیل حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا ساخوف ہوا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ ابھی قیامت کا وقت نہیں خود ہی تو علامات قیامت بے شمار بیان فرمائی ہیں۔رب تعالٰی نے سارے جہان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے پھیلانے کا وعدہ کیا ہےجن کی اطلاع اس سے پہلے سرکار بار بار دے چکے ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ اشعری فتح خیبر کے سال ایمان لائے اور سورۃ فتح اس سے کہیں پہلے نازل ہوچکی تھیں جس میں یہ تمام وعدے ہیں،نیز ڈرخوف دل کے حالات ہیں۔دوسرا شخص علامات ہی سے معلوم کرسکتا ہےحقیقت حال سے خبردارنہیں ہوسکتا۔حضرت ابوموسیٰ نے اندازًا یہ بیان کیا۔(لمعات)لہذا اس حدیث سے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم قیامت سے بالکل بے خبرتھے۔
۲؎ اس سےمعلوم ہورہا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کی ہر رکعت میں ایک رکوع دو سجدے کیے مگر بہت دراز کئے،چونکہ ابوموسیٰ اشعری اس وقت بچے نہ تھے اس لیے آپ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز سے بہت ہی خبردار تھے،لہذا آپ کی یہ روایت حضرت ابن عباس وعائشہ صدیقہ کی احادیث پر راجح ہے اور یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع