دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۲؎ اس کی شرح پہلےگزرچکی کہ شہرمیں جہاں نمازعید شرعًا ہوتی ہو وہاں قربانی کا وقت نماز عید کے بعدشروع ہوتاہے اور گاؤں میں نمازعید جائزنہیں،وہاں دسویں تاریخ کی پوپھٹنے سے شروع ہوجاتا ہے اوربارھویں کے آفتاب ڈوبنے تک رہتا ہے،یعنی شہر اور گاؤں ابتداءمیں علیٰحدہ ہیں انتہاءمیں یکساں۔

1473 -[21]

وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: الْأَضْحَى يَوْمَانِ بعد يَوْم الْأَضْحَى. رَوَاهُ مَالك

1474-[22]وَقَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مثله

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا قربانی بقرعید کے بعد دو دن تک ہے۔(مالک)اور فرمایا کہ مجھے حضرت علی ابن ابی طالب سےاس کی مثل روایت پہنچی ۱؎

۱؎ یہ حدیث امام ابوحنیفہ،مالک و احمدکی قوی دلیل ہے کہ قربانی بارھویں کے آفتاب ڈوبنے تک ہے،امام شافعی کے ہاں تیرھویں کی عصر تک،یہ حدیث اگر چہ موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ بات عقل سے نہیں کہی جاسکتی،تیرھویں تاریخ کی کوئی روایت صحیح نہیں ملتی،اگر ہوبھی تو قابل عمل نہ ہوگی کیونکہ بارھویں تک قربانی کا یقین ہے اورتیرھویں میں شبہ۔

1475 -[23]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضحي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ شریف دس سال قیام کیا قربانی کرتے رہے ۱؎(ترمذی)

۱؎ ہرسال۔اس حدیث سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ قربانی واجب ہے ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہ کبھی بیان جواز کے لیئے قربانی چھوڑتے۔دوسرے یہ کہ قربانی صرف مکہ معظمہ میں ہی نہیں ہر جگہ ہوگی۔اس سے آج کل کے ہندونواز مسلمانوں کو عبرت چاہیئے۔

1476 -[24]

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: «سُنَّةُ أبيكم إِبْرَاهِيم عَلَيْهِ السَّلَام» قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ» . قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَة» رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲ یہ قربانیاں کیاہیں فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ۱؎ عرض کیا کہ ان میں ہمیں کیا ملے گافرمایا ہربال کےعوض نیکی عرض کیا کہ اون یارسول اﷲ تو فرمایا کہ اون کے ہربال کےعوض نیکی ۲؎(احمد،ابن ماجہ)

۱؎ جس کی ابتداءفرزند کے ذبح سے ہوئی اور آپ آخر تک کرتے رہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال طیبہ کو سنت کہتےہیں اورگزشتہ انبیاء کے طریقہ کو فطرت لہذا قربانی سنت و فطرت ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن