30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ معلوم ہوا کہ عید کے دن کھاکر جانا اور بقرعید کے دن آکرکھانا سنت ہے۔بہتر یہ ہے کہ پہلے قربانی ہی کا گوشت کھائے۔ مرقات اور فتح القدیر میں ہے بہتر یہ ہے کہ عید کے دن کوئی میٹھی چیز کھا کر جائے،لہذا سویاں،شیرخرمہ وغیرہ کھالینے سے بھی یہ سنت ادا ہوجائے گی۔بعض علماءفرماتے ہیں بہتریہ ہے کہ بقرعید کے دن عورتیں،بچے بھی نماز سے پہلے کچھ نہ کھائیں۔
|
1441 -[16] وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ فِي الْأُولَى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي |
روایت ہے حضرت کثیر ابن عبداﷲ سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روای ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عیدین کی پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں کہیں اور دوسری میں قرأت سے پہلے پانچ ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ، دارمی)۳؎ |
۱؎ جن کا نام عمر ابن عوف مدنی ہے۔خیال رہے کہ کثیر ابن عبداﷲ نہایت ضعیف راوی ہیں،بعض محدثین نے فرمایا کہ یہ کچھ نہیں،بعض نے فرمایا کہ یہ منکر الحدیث ہے،اکثر آئمہ حدیث نے ان پرطعن کیاہے۔(اشعۃ اللمعات)
۲؎ علاوہ تکبیرتحریمہ اورتکبیر رکوع کے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ عید کی تکبیریں پہلی رکعت میں سات ہیں دوسری میں پانچ اور دونوں رکعتوں میں قرأت سے پہلے ہیں،امام شافعی کا یہی مذہب ہے،ہمارے ہاں دونوں رکعتوں میں تکبیرعیدتین تین ہیں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے اور دوسری میں قرأت کے بعد،ہماری دلیل آگے آرہی ہے۔
۳؎ تعجب ہے کہ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کیسے کہہ دیا کہ کثیر ابن عبداﷲ کو تمام محدثین ضعیف کہتے ہیں۔چنانچہ ابوداؤد نے کہا یہ کذّاب ہے،امام شافعی نے فرمایا یہ جھوٹ کا ستون ہے،ابن حبان نے کہا کہ یہ جھوٹا ہے،ابو حاتم نے کہا کہ یہ متین نہیں،ابن عدی نے فرمایا کہ اس کی روایتوں پرکوئی دھیان نہیں دیتا۔ظاہر یہ ہے کہ حدیث ضعیف ہے،قابلِ استدلال نہیں۔(مرقاۃ)
|
1442 -[17] وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ مُرْسَلًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَبَّرُوا فِي الْعِيدَيْنِ وَالِاسْتِسْقَاءِ سَبْعًا وَخَمْسًا وَصَلَّوْا قبل الْخطْبَة وجهروا بِالْقِرَاءَةِ. رَوَاهُ الشَّافِعِي |
روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے(ا رسلًا)۱؎ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اورحضرات ابوبکروعمرنے عیدوں اور استسقاء میں سات اور پانچ تکبیریں کہیں اورخطبے سے پہلےنماز پڑھی اور قرأت اونچی کی ۲؎(شافعی) |
۱؎ آپ کا نام جعفر،لقب صادق ہے،آپ کے والدمحمد،لقب باقر،ان کے والدعلی ابن حسین،یعنی امام زین العابدین لہذا آپ امام حسین کے پڑ پوتے ہیں رضی اللہ عنہم۔
۲؎ یہ حدیث بھی امام شافعی کی دلیل ہےمگر دو طرح مجروح ہے:ایک یہ کہ امام جعفر صادق تابعی نہیں بلکہ تبع تابعین کےبھی بعدہیں لہذا ان کی یہ حدیث مرسل نہیں ہوسکتی،نیز آپ نےحضرت صدیق وفاروق کوبھی نہیں دیکھا۔دوسرے یہ کہ بعض سندوں میں امام جعفر صادق کی یہ حدیث حضرت علی پرموقوف ہے مرفوع ہے ہی نہیں۔بہرحال حدیث موقوف ہویامرفوع اس میں کئی راوی چھوٹے ہوئے ہیں کیونکہ امام جعفر صادق نے علی مرتضٰی کی ملاقات بھی نہیں کی۔(ازمرقاۃ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع