30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1435 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ شَاةُ لَحْمٍ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ» |
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقرعید کے دن ہمیں خطبہ سنایا تو فرمایا کہ آج اس دن میں جس چیز سے ہم شروع کریں گے وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں پھر لوٹیں تو قربانی کریں ۱؎ جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا،اور جس نے ہماری نماز سے پہلے ذبح کرلیا وہ گوشت کی بکری ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے ذبح کرلیا وہ قربانی نہیں ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی بقرعید کے دن مقصودی عبادتیں دو ہیں:نماز اور قربانی،جن میں نماز پہلے ہے اور قربانی بعد میں،لہذا حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس دن غسل بھی نہ کرے۔
۲؎ علماءفرماتے ہیں کہ شہر جہاں نماز بقرعید ہوتی ہو وہاں نماز سے پہلے قربانی جائزنہیں،گاؤں جہاں نماز بقرعید نہیں ہوسکتی وہاں پو پھٹتے ہی قربانی جائز ہے اور قربانی کرنے والے کا نمازعید پڑھنا ضروری نہیں بلکہ شہرمیں کسی جگہ نماز ہوجانا کافی ہے اسی لیے سرکار نے نُصَلِّیْ فرمایا یُصَلِّیْ غائب کے صیغہ سے نہ فرمایا،لہذا اگرکہیں اول وقت نما زعید ہوگئی اس کے بعد ہم نے قربانی کی پھرعید پڑھنے عیدگاہ گئے توجائز ہے،یہ تمام مسائل اس حدیث سے لیے گئے،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہےکہ نماز سے پہلے قربانی ہوتی ہی نہیں،امام شافعی کے وہاں ہوجاتی ہےمگربہتر نہیں۔
|
1436 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ على اسْم الله» |
روایت ہے حضرت جندب ابن عبداﷲ بجلی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو نماز سے پہلے ذبح کرے وہ اس کی جگہ دوسری ذبح کرے اورجس نے ہمارے نماز پڑھنے تک ذبح نہ کیا ہو وہ اﷲ کے نام پر ذبح کرے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی نماز کے بعد اس کی قربانی درست ہے اس سے پہلے درست نہیں،ہمارے ہاں پہلے والی قربانی کا اعادہ واجب ہے،امام شافعی کے ہاں مستحب،یہ حدیثیں ان کے مخالف ہیں۔
|
1437 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسلمين» |
روایت ہے حضرت براءسے فرماتےہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز سے پہلے ذبح کرے وہ اپنے لیے ذبح کرتا ہے جو نماز کے بعد ذبح کرے اس کی قربانی پوری ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ پالیا ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی نماز سے پہلے کا ذبیحہ عادت ہے اور بعدنماز ذبیحہ عبادت۔اس حدیث سےمعلوم ہوتاہے کہ اگر نماز کے بعد خطبہ سے پہلے قربانی ہوجائے تو درست ہوگی۔
|
1438 -[13] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہےحضرت ابن عمرسے فرماتےہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں ذبح اورنحر فرماتے تھے ۱؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع