دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۳؎ حضرت ابوبکرصدیق یہ سمجھے کہ یہ گیت بھی ناجائز ہیں،عائشہ صدیقہ کو مسئلہ نہیں معلوم اورحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سورہے ہیں اس لیے انہیں جھڑکا،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے بتادیا کہ یہ گیت ہماری اجازت سے گائے جارہے ہیں ناجائز نہیں،اس میں خوشی کا اظہار ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ عید،شادی،عقیقہ،ختنہ،وغیرہ خوشی کے موقعوں پر بچیوں کے ایسے گیت گاناجائز ہیں،مگر آج کل کے غنا(گیت)مقدمۂ زنا ہیں۔

۴؎ یعنی ہرقوم اپنی عیدوں میں اظہار خوشی کرتی ہے تو ہم کیوں نہ کریں۔علماء فرماتے ہیں کہ کفار کی عیدوں کا احترام کرنا،اس دن کپڑے بدلنا،خوشی کرناکفر ہے،اپنی عیدوں پرجائزخوشیاں منانا سنت۔پنجاب میں نمازعید کے بعدعورتیں عیدگاہ پہنچ کرکھیل کودکرتی ہیں یہ ناجائز ہے،نیز دف اور تاشہ،اعلان نکاح یاعیدکی خوشی کے لیے بجانا جائز ہےمگر جھانج مطلقًا ناجائز۔اس کی پوری بحث ان شاءاﷲ "کتاب الادب"میں آئے گی۔

1433 -[8]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ وَيَأْكُلَهُنَّ وِتْرًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتےہیں کہ رسول اﷲ عیدا لفطر کے دن عیدگاہ نہ جاتےحتی کہ کچھ چھوہارے کھالیتے طاق کھاتے تھے ۱؎(بخاری)

۱؎ یہ کھانا اس لیے تھا تاکہ رمضان کے طریقہ کی تبدیلی ہوجائے۔سنت یہ ہے کہ عیدکی نمازکو کچھ کھاکرجائے،اب مسلمان سویاں،شیرخرمہ،وغیرہ کھاتےہیں جن میں چھوہارےبھی ہوتے ہیں،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ادائے سنت کے لیے چھوہارے ضرور ہونے چاہئیں۔فضلاء دیوبنداسےبھی حرام کہتے ہیں نہ معلوم ان کا ماخذ کون سی حدیث ہے،مگر لطف یہ ہے کہ کھا وہ بھی لیتے ہیں،ان کے ہاں کھلاناحرام ہے اورکھاناجائز۔

1434 -[9]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدٍ خَالَفَ الطَّرِيق. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہےحضرت جابرسے فرماتےہیں کہ جب عید کا دن ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ کے رستے میں اختلاف کرتے ۱؎(بخاری)

۱؎ یعنی عیدگاہ جاتے اور راستے سے واپس ہوتے دوسرے راستہ سےتاکہ دونوں راستوں کو برکت حاصل ہواور دونوں طرف کے باشندے آپ سے فیض پائیں،اور ہرطرف کے منافقین مسلمانوں کے ازدہام کو دیکھ کر جلیں اور راستوں میں بھیڑکم ہو دونوں راستوں کے فقراء پر خیرات ہو،اہلِ قرابت کی قبور کی زیارتیں ہوں جو ان راستوں میں واقع ہیں اور دونوں راستے ہماری نمازو ایمان کے گواہ بن جائیں،لیکن جاتے وقت دراز رستہ اختیار فرماتے اور لوٹتے وقت مختصر،تاکہ جاتے ہوئے قدم زیادہ پڑیں اور ثواب زیادہ ملے۔معلوم ہوا کہ عیدگاہ پیدل جانا اور جاتے آتے راستہ بدلنا سنت ہے۔

1435 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ شَاةُ لَحْمٍ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ»

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقرعید کے دن ہمیں خطبہ سنایا تو فرمایا کہ آج اس دن میں جس چیز سے ہم شروع کریں گے وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں پھر لوٹیں تو قربانی کریں ۱؎ جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا،اور جس نے ہماری نماز سے پہلے ذبح کرلیا وہ گوشت کی بکری ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے ذبح کرلیا وہ قربانی نہیں ۲؎ (مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن